روس جنگ کیلئے پاکستانی نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں انسانی اسمگلنگ کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے نوجوانوں کو روس لے جا کر یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سرگرم مبینہ ہیومن ٹریفکنگ نیٹ ورک نوجوانوں کو روس میں پرکشش ملازمتوں، قانونی ورک پرمٹ اور بھاری تنخواہوں کا لالچ دے کر بیرون ملک بھجواتا ہے، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد انہیں روسی فوج میں شامل ہونے کیلئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انسٹاگرام نے اہم فیچر ختم کر دیا، صارفین حیران
اس معاملے پر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے اور تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
درخواست گزار منصور اختر جمال نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں “کک” ویزے پر روس بھجوایا گیا اور ماہانہ 5 سے 6 لاکھ روپے تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ درخواست کے مطابق اس پورے عمل کیلئے ان کے بڑے بھائی محمود اختر جمال کے اکاؤنٹ سے تقریباً 47 لاکھ 50 ہزار روپے ایجنٹ ہشام بن طارق کو ادا کیے گئے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہشام بن طارق اور اس کے مبینہ ساتھی نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور بھاری آمدن کے خواب دکھا کر روس بھجواتے ہیں، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔
منصور اختر جمال کے مطابق روس پہنچنے پر ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ روسی فوج میں شامل ہو کر یوکرین کے خلاف جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ خوفزدہ حالت میں انہوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا، جس کے بعد خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گیا۔
بعد ازاں پاکستانی سفارتخانے اور دیگر ذرائع کی مدد سے انہیں مشکل سے واپس پاکستان لایا گیا جبکہ اس سارے عمل میں مزید لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔
درخواست گزار نے ایف آئی اے کو بینک ٹرانزیکشنز، آن لائن ادائیگیوں اور دیگر مالی ریکارڈ بھی فراہم کر دیے ہیں۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل نے اس معاملے پر انکوائری نمبر 266/26 درج کر رکھی ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات کی ذمہ داری انسپکٹر زاہد بھٹی کے سپرد کی گئی تھی۔
انسپکٹر زاہد بھٹی کا کہنا ہے کہ ان کا اس کیس سے تبادلہ ہو چکا ہے جبکہ مزید پیش رفت کے لیے متعلقہ افسر محرم سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب درخواست گزار نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ مزید نوجوان ایسے خطرناک جال میں پھنسنے سے بچ سکیں۔