Gas Leakage Web ad 1

نظریاتی کونسل کے رائے دینے کے اختیار سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

0

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سوال پر کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو کس حد تک رائے دینے کا اختیار حاصل ہے، فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سماعت کے دوران درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی نے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا، ویسے بھی ہمارے پاس 24 گھنٹے رہ گئے ہیں۔

اسلام آباد، راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ کسی بھی قانون کے بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے تاکہ قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی وہی بات کر رہے ہیں جو ڈاکٹر اسلم خاکی کر رہے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس پر کوئی رائے فریقین کے حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح کیا کہ عدالت اس کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا گورنرز، صدر، قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے رائے طلب کیے بغیر بھی اسلامی نظریاتی کونسل رائے دے سکتی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالت صرف نظریاتی کونسل کے اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے، اور این سی سی آئی اے کو نظریاتی کونسل رائے نہیں دے سکتی اور نہ ہی قانون کے مطابق ان سے رائے لی جا سکتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہو تو پھر نظریاتی کونسل یہ بھی رائے دے سکتی ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات میں پہلے اس سے رائے لی جائے، جبکہ ایسا اختیار قانون میں موجود نہیں۔ عدالت نے کہا کہ نظریاتی کونسل کو خود اپنے اختیارات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ عدالت کو فیصلہ نہ کرنا پڑے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 28ویں ترمیم میں اس نکتے کو بھی شامل کر لیا جائے تاکہ اختیارات واضح ہو جائیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ بھی مسکرا دیے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.