Gas Leakage Web ad 1

نیب ترامیم کیس، بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیشی

0

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جاری ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ میں پیشی کے انتظامات کیے گئے۔

بانی پی ٹی آئی کو بیرک سے کورٹ روم منتقل کیا گیا۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔

 چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے مؤکل 90 روز کے ریمانڈ سے مطمئن تھے؟ نیب جس انداز میں گرفتاریاں کرتا تھا کیا وہ درست تھا؟

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب میں بہت سی ترامیم اچھی ہیں، 90 روز کے ریمانڈ سے مطمئن تھے نہ گرفتاریوں سے، جو ترامیم اچھی تھیں انہیں چیلنج نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سوال کیا کہ نیب آرڈیننس کب آیا تھا؟

وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ نیب قانون 1999ء میں آیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ 1999ء میں کس کی حکومت تھی؟ نام لے کر بتائیں۔

وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی، پرویز مشرف سے قبل نواز شریف کے دور حکومت میں اسی طرح کا احتساب ایکٹ تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.