چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی ہدایت پر عدالت کے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں نمایاں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ایک جدید ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ نئے نظام کا مقصد عدالتی ریکارڈ کی حفاظت، شفافیت اور بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
کترینہ کیف اور وکی کوشل کے گھر ننھے مہمان کی آمد
اس سلسلے میں ایک جامع اصلاحاتی ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے، اور ریکارڈ مینجمنٹ کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے دو ایڈیشنل رجسٹرارز کو تعینات کیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم، کمپیوٹرائزڈ موومنٹ انڈیکس اور کاپی پٹیشن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کاپی برانچ کی کارکردگی میں بہتری لا کر وکلا اور سائلین کو بروقت مصدقہ نقول کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
عدالتی فائلوں کی اسکیننگ اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کا عمل بھی جاری ہے، تاکہ فعال اور پرانی فائلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ریکارڈ رومز کی تنظیم نو، فائلوں کی درجہ بندی، لیبلنگ سسٹم اور بہتر انتظامی ماحول کے لیے اصلاحات بھی نافذ کی گئی ہیں، جن سے عدالت کے کام کی رفتار اور شفافیت میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔