دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، جوکچھ کرنا پڑا کریں گے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں دہشتگردوں کے لیے جیلوں کے دروازے کھولے گئے،
جس کے باعث دہشتگرد دوبارہ منظم ہونے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور "جو کچھ بھی کرنا پڑا، وہ کیا جائے گا”۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، کیونکہ پاکستان کے "ہاتھ صاف تھے”، لیکن بھارت نے آج تک اس آفر کا جواب نہیں دیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان پر سفارتی تنہائی کا الزام لگایا جاتا رہا، مگر 22 اپریل سے 6 مئی تک کے دوران پاکستان نے 29 ممالک کے دارالحکومتوں سے براہ راست سفارتی رابطے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کو باور کرایا کہ بھارت اس واقعے میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اور پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق، بھارت نے 6 مئی کی رات 75 سے 80 جنگی طیارے پاکستان کی حدود کی جانب بھیجے، جس پر پاکستان مکمل تیاری کی حالت میں تھا۔ انہیں ہدایات تھیں کہ اگر بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوتے تو انہیں نشانہ نہ بنایا جائے، تاہم اگر پاکستان کی جانب نشانہ بنایا گیا تو جوابی کارروائی لازمی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی دفاعی افواج نے اس کارروائی کے دوران 6 بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں 4 رافیل، ایک ایس یو-30، ایک مگ اور ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون شامل تھا۔
نائب وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پاکستان نے اس بار 170 ووٹوں کی برتری سے منتخب ہو کر سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پر پابندیاں لگیں تو ملک کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، مگر عالمی پروگرام اب پاکستان کے لیے دفاعی تحفظ کی ڈھال بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستان کو سیکیورٹی کونسل کی صدارت بھی حاصل ہو گئی ہے، جو عالمی سطح پر ملک کے وقار کی علامت ہے۔