ایران نے امریکا کے تازہ حملوں کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان کردیا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران وحشیانہ جرائم کا بھرپور جواب دے گا۔ جرائم پر خاموشی اختیار کرنے والی حکومتیں غیر جانب دار نہیں، جبکہ بربریت کو جواز فراہم کرنا جرم کو معمول بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی حملوں کو سیاسی مفاد کے لیے جائز قرار نہیں دیا جانا چاہیے، جبکہ جرائم کی مذمت اور انہیں معمول بنانے کے درمیان فرق ختم ہوتا جارہا ہے۔
ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز، تھائی لینڈ کو شکست دے دی
امریکی فورسز نے ایران میں پاسداران انقلاب کے خلاف حملوں کی ایک لہر مکمل کی، جس کے دوران فضائی دفاعی مراکز، ریڈار سسٹمز، بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے جواب میں ایران نے بھی اردن میں 13 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔
ایران کے علاقے ’سیرک‘ کے قریب شادی کی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں 4 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ قشم جزیرے اور بندر عباس سمیت مختلف شہروں میں دھماکے ہوئے۔ قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب 5 سے زائد دھماکے بھی ہوئے۔