قطری نشریاتی ادارے کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا ہے اور متعدد امور پر دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ رائے سامنے آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمان نے بھی ساحلی ریاست ہونے کے ناطے ان انتظامات میں کردار ادا کرنے کی حمایت کی ہے۔ عمان کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جانی چاہیے۔
تحریک انصاف کے دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گيا، اسد قیصر کا دعویٰ
کاظم غریب آبادی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ ماہرین آئندہ سات سے آٹھ روز کے اندر خصوصی مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ ایک مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کے لیے راستوں سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
آبنائے ہرمز کے مستقبل کا معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم اختلافی نکتہ بن گیا ہے۔ ایران عمان کے ساتھ مل کر نئی سروس فیس نافذ کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا کسی بھی اضافی فیس کی مخالفت کر رہا ہے۔
دوسری جانب عمان کا مؤقف حالیہ دنوں میں غیر واضح رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران اور عمان نے مشترکہ طور پر کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظامی اخراجات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم بعد میں عمان نے وضاحت کی کہ کسی بھی قسم کی گزرگاہ فیس عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور اس نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں اپنی ساحلی حدود کے قریب ایک عارضی بحری راہداری کا اعلان کیا۔
ادھر ایران نے بعد ازاں اس آبی گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں پر حملے کیے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ صرف اس کی ساحلی پٹی کے ساتھ واقع بحری راستہ ہی مجاز راستہ ہے۔