امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی یا لڑائی کا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں خوشگوار اور بہتر تعلقات استوار رکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور چین کے مابین تعلقات اب بہتری کی سمت بڑھ رہے ہیں اور اس وقت دونوں عالمی قوتوں کے درمیان کافی مضبوط روابط قائم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون اور اچھے تعلقات کی اہمیت تنازعات سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
عدالت نے عمران خان سے ملاقات کی درخواست غیر ضروری اور فضول قرار دیکر خارج کردی
انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ عسکری اعتبار سے ایران اب تقریباً ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ چین اس وقت وینزویلا اور ایران کے بدلتے ہوئے حالات اور وہاں کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے جس میں وہ چین کے کردار اور ایران کی موجودہ دفاعی پوزیشن کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ چین کا ایک انتہائی اہم اور باضابطہ دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔ اس اہم سفارتی دورے کے ایجنڈے میں دونوں بڑے ممالک کے درمیان تجارت، جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون اور ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ یا کشیدگی سے متعلق اہم ترین امور شامل ہیں جن پر دونوں رہنماؤں کے درمیان سیر حاصل تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دورے کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کے نتائج سے مستقبل کی عالمی تجارت اور سیکیورٹی کی سمت کا تعین ہونے کی توقع ہے۔