روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین تنازع سمیت مختلف عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن کے نمائندے یوری اوشاکوف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ٹیلیفونک رابطہ 90 منٹ سے زائد جاری رہا اور اسے بے تکلف اور کاروباری نوعیت کی گفتگو قرار دیا گیا۔
نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا گیا
اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر ایران اور خلیج فارس کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ولادیمیر پوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیا، کیونکہ اس سے مذاکرات کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کی مجموعی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسی ممالک بلکہ پوری عالمی برادری پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کریملن کے مطابق پوٹن نے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی ہر ممکن حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔