کینیڈا میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے عطیات لینے سے روکنے کے لیے اہم قانون سازی نے ایک اور مرحلہ عبور کر لیا ہے، جس کے بعد انتخابی شفافیت اور سیکیورٹی پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق “Strong and Free Elections Act” کے نام سے پیش کیا گیا بل C-25 کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں، یعنی ہاؤس آف کامنز آف کینیڈا، میں دوسری ریڈنگ سے منظور ہونے کے بعد اب کمیٹی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور ممکنہ ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔
اس مجوزہ قانون کے تحت سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدواروں کے لیے کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرنا ممنوع قرار دیا جائے گا۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتخابی نظام میں موجود ایک اہم خلا کو پُر کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل اثاثے تیزی سے سیاسی فنڈنگ کا حصہ بن رہے ہیں۔
حکومتی ہاؤس لیڈر اسٹیون میک کینن، جو اس بل کے اسپانسر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کا مقصد انتخابات کو ہر قسم کی بیرونی مداخلت سے محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق حکومت انتخابی نظام کو آزاد، منصفانہ اور محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ماہرین اور قانون سازوں نے کرپٹو عطیات پر پابندی کو شفافیت اور فنڈز کے ذرائع کی نگرانی سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق کرپٹو کرنسی کے ذریعے فنڈنگ میں عطیہ دہندگان کی شناخت اور قانونی حدود کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے، جس سے غیر ملکی اثر و رسوخ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف کینیڈا تک محدود نہیں۔ دیگر جمہوری ممالک، بشمول برطانیہ، میں بھی اس حوالے سے خدشات سامنے آ چکے ہیں، جہاں حکومتی کمیٹیوں نے کرپٹو فنڈنگ کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔
کینیڈا میں اس سے قبل 2024 میں بھی اسی نوعیت کی ایک تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم وہ قانون سازی کے مراحل مکمل نہ کر سکی تھی۔ موجودہ بل C-25 کو ایک وسیع انتخابی اصلاحاتی پیکج کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں شفافیت بڑھانے، قوانین کو سخت کرنے اور غیر ملکی مداخلت کے امکانات کو کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
ادھر کینیڈا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ریگولیٹری اقدامات بھی جاری ہیں۔ بینک آف کینیڈا سمیت دیگر ادارے اس شعبے میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں، جبکہ حکومت کرپٹو کرنسی کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ حساس شعبوں، جیسے انتخابات، میں اس کے استعمال کو محدود کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
فی الحال بل C-25 کے کمیٹی میں پیش ہونے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس پیش رفت کو کینیڈا میں انتخابی قوانین میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔