Gas Leakage Web ad 1

امریکہ میں سزائے موت کی واپسی؛ ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ، پھانسیوں میں تیزی اور فائرنگ اسکواڈ کا آپشن زیر غور

نورالامین

0

واشنگٹن ڈی سی: امریکہ میں فوجداری نظامِ انصاف میں ایک بڑی اور متنازع تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انصاف نے وفاقی سطح پر سزائے موت کو نہ صرف بحال کرنے بلکہ اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا ہے، جس میں وفاقی پھانسیوں کو دوبارہ شروع کرنے، سزائے موت کے اطلاق کو بڑھانے اور مقدمات کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد سنگین جرائم کے متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

چین اور سندھ حکومت میں سمندری پانی قابل استعمال بنانے سمیت 3 ایم او یوز پر دستخط

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینچ کے مطابق محکمہ انصاف قانون کی عملداری کو مضبوط بنانے اور متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم پر کاربند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی، اجتماعی تشدد اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل جیسے مقدمات میں سزائے موت کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ اعلان سابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کی جانب سے جو بائیڈن کے دور میں عائد سزائے موت پر پابندی کے خاتمے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پابندی کی بنیاد سزائے موت کے طریقہ کار اور انصاف کے تقاضوں سے متعلق خدشات تھے۔

نئی پالیسی کے تحت مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دوبارہ نافذ کی جائے گی، تاہم فائرنگ اسکواڈ جیسے متبادل طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کو قانونی اور اخلاقی سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی سطح پر پھانسی دینے کی سہولیات میں توسیع یا ان کی منتقلی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جبکہ استغاثہ کو متعدد زیر التوا مقدمات میں سزائے موت طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

محکمہ انصاف نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات کو تیز تر بنانے کے لیے اپیلوں کے دورانیے کو کم کیا جا سکتا ہے اور رحم کی اپیلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے نئی قانون سازی کی تجاویز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ پالیسی فوری طور پر عدالتوں میں چیلنج کی جائے گی، خاص طور پر امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم کے تناظر میں، جو “ظالمانہ اور غیر معمولی سزاؤں” کی ممانعت کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اپیلوں کے عمل کو محدود کرنا بنیادی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف عدالتی بلکہ سماجی سطح پر بھی گہری تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ حامیوں کے مطابق سزائے موت سنگین جرائم کے خلاف ایک مؤثر روک اور متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے، جبکہ مخالفین غلط سزاؤں، نسلی امتیاز اور عالمی سطح پر سزائے موت کے خاتمے کے رجحان کو بنیاد بنا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ کرمنالوجی کے ماہرین میں بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا سزائے موت واقعی جرائم میں کمی لاتی ہے یا نہیں۔

آنے والے دنوں میں مزید پالیسی اقدامات متوقع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں سزائے موت کا معاملہ ایک نئے اور نہایت متنازع مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں عدالتیں، سیاست اور عوامی رائے سب اہم کردار ادا کریں گے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.