فرانس کے شہر شانتئی میں منعقدہ عالمی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے ایران کو اسٹریٹجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں بہت طویل وقت لگے گا۔
انور قرقاش کے مطابق حالیہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے دوران ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی ہے۔
پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کیلئے قانون سازی کریں گے: برطانوی وزیراعظم
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے تقریباً 2800 میزائل اور ڈرون حملوں میں سے 89 فیصد نے شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں عدم اعتماد پہلے سے زیادہ گہرا ہو چکا ہے اور اب ایران کو ایک مستقل اسٹریٹجک خطرے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انور قرقاش کے مطابق ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا، اور ایسے حالات میں اعتماد سازی کی بات کرنا ممکن نہیں جب ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہوں۔