مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران نے بھارتی معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات بھارت کی معیشت پر بھی واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کا ذکر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان نے ایران اور وسط ایشیا کے لیے نیا تجارتی راستہ کھول دیا
یو این ڈیولپمنٹ پروگرام کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس خطے میں جاری کشیدگی بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد کو غربت کا شکار بنا سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں زندگی گزارنے والے بھارتی شہریوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یو این ڈیولپمنٹ پروگرام نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خریف کی فصل بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کشیدگی کے باعث بھارت میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی، جس کی وجہ سے تقریباً 90 فیصد ملازمتوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔