Gas Leakage Web ad 1

افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان نے ایران اور وسط ایشیا کے لیے نیا تجارتی راستہ کھول دیا

0

پاکستان نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور روایتی راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) نظام کے تحت فعال بنا دیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اس پیش رفت کی اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو نہ صرف کم فاصلے پر مشتمل ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی سمجھا جا رہا ہے۔

ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے: وزیراعظم

اس نئے تجارتی روٹ کے تحت کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی سے روانہ کر دی گئی ہے۔ کسٹمز کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) نے فعال کی ہے، جو اس سے قبل چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی متعدد تجارتی راستے قائم کر چکی ہے۔

گبد بارڈر کی فعالیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متبادل تجارتی راستوں کی اشد ضرورت تھی۔

گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد بند ہونے کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات متاثر ہوئیں، جس کے بعد حکومت نے ایران کے ذریعے نئے راستے تلاش کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد پر پہلے سے ہی مضبوط غیر رسمی تجارت جاری رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو سہل بنانے کے لیے بینکاری قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہے۔

عام حالات میں برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، تاہم ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا، جن میں خوراک، ادویات اور خیمے شامل ہیں، کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے تاکہ تاجر تیزی سے اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔

ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک اہم منڈی بن چکا ہے۔ مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی گوشت برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات کے 26 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے ایران کے ذریعے متبادل راستہ قائم کرنا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو یہ تجارتی راہداری پاکستان کے لیے ایک مؤثر سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔

اس تمام عمل میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کا کردار اہم رہا ہے۔ گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے تقریباً 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ اس وقت بھی کافی تجارت غیر رسمی انداز میں ہو رہی ہے اور شفافیت کے حوالے سے چیلنجز موجود ہیں، تاہم حکومت کی موجودہ پالیسی بارٹر ٹریڈ کو فروغ دینے اور نئے تجارتی راستے تلاش کرنے پر مرکوز ہے تاکہ ملکی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.