Gas Leakage Web ad 1

ٹرانسپورٹ کا مستقبل

رضوان عباسی، بیجنگ

0

گزشتہ دہائی میں دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بہت سی اہم تبدیلیوں سے گزرا ہے اور اس میدان میں متعدد اختراعات سامنے آئی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے روایتی ایندھن پر انحصار کم ہوا ہے اور سبز توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ممالک کی طرح چین میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اور وسیع رینج سڑکوں پر دکھائی دیتی ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ چین میں ڈیڑھ سو سے زائد کار برانڈز قائم ہو چکے ہیں اور یہ اپنے ماڈلز کی ایک وسیع رینج کے ساتھ چینی صارفین میں بے حد مقبول ہیں۔ چینی کار ساز کمپنیوں کی جانب سےاب گاڑیوں کے نئے ماڈلز میں سبز توانائی کا رجحان کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے، اور یہاں کی سڑکوں کو آپ کو ہائبرڈ گاڑیاں اور مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیاں ہر جانب دکھائی دیں گی۔ اس میں چین کا پبلک ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی پیش پیش ہے اور یہاں کی اکثر پبلک بسوں کو الیکٹرک توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے عام صارفین بھی اب الیکٹرک گاڑیوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
اگر ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو یہاں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی مستقبل پر مبنی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اب گاڑیاں روڈز پر چلنے کے ساتھ ساتھ اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ چین ان اولین ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں اڑنی والی گاڑیاں متعارف کروائی گئیں۔ چینی کمپنی ایکس پنگ اس میدان میں پیش پیش رکھائی دے رہی ہے اور یہ کم اونچائی والی معیشت کے میدان میں مختلف منظرنامے پیش کر رہی ہے۔ اسی کمپنی کی اڑنے والی گاڑیاں اب بیرون ممالک میں بھی استعمال کی جا رہی ہیں جن میں سر فہرست دبئی کی جانب سے متعارف کردہ ائیر ٹیکسی سروس ہے جو مسافروں کو ائیر پورٹ سے ان کے مطلوبہ مقام تک سروس فراہم کر رہی ہے۔ ایکس پنگ نے اڑنے والی گاڑی کا ایک اور ماڈل متعارف کروایا ہے جس میں ایک روایتی گاڑی کی ٹرنک میں ایک چھوٹے ائیر کرافٹ کو فٹ کیا گیا ہے۔ ایکس پنگ کی جانب سے یہ لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر ماڈیولر اڑنے والی گاڑی اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی گاڑی ہے۔یہ منفرد گاڑی دو حصوں پر مشتمل ڈیزائن کی حامل ہے، جو زمینی اور ہوائی موڈ کے درمیان ہم آہنگی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ ہوائی ماڈیول کم بلندی پر پرواز کے لیے عمودی طور پر اڑان بھرنےکی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ زمینی ماڈیول سے زمینی نقل و حمل ممکن ہوتی ہے۔ اس فلائنگ کار کے بانی ژاؤ ڈیلی کے مطابق، مستقبل میں یہ پروڈکٹ سڑک کے سفر کو نئے انداز سے متعارف کروائے گی، جس سے مسافر اپنے پسندیدہ خوبصورت مقامات تک گاڑی چلا سکیں گے اور مناظر کے حیرت انگیز ہوائی نظاروں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔اس مستقبل کی گاڑی کا ہوائی ماڈیول آپریٹ کرنا کافی آسان ہے، ژاؤ کا کہنا ہے کہ آپ پانچ منٹ میں اسے چلانا شروع کر سکتے ہیں اور تین گھنٹے میں اس کے ماہر ہو سکتے ہیں۔ اسے مینول طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور یہ خود کار طریقے سے بھی اڑ سکتی ہے۔اس گاڑی کی کمرشل سیل اگلے سال تک شروع کی جائے گی۔
جس طرح ٹیکنالوجی دن بدن تبدیل ہوتی جا رہی ہے، یہ واضح ہو رہا ہے کہ مستقبل میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اس طرح کی اختراعات اس سیکٹر کو یکسر تبدیل کر دیں گی۔وہ وقت دور نہیں کہ جب گاڑیاں سڑکوں پر چلنے کے ساتھ ساتھ ہوا میں بھی عام اڑتی دکھائی دیں گی اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن جائیں گی۔ آنے والے وقت کے اس سارے منظرنامے میں وہی قومیں آگے رہیں گی جو مستقبل پر مبنی ٹیکنالوجیز کو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے قومی دھارے میں شامل کریں گی، انھیں اپنائیں گی اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.