Gas Leakage Web ad 1

ریاستی نظام لرز رہا ہے؟

سید ابرار حیدر

0

قرائن و آثار سے واضح ہے کہ
آزاد کشمیر میں رائج نظام ناکامی کے امکانات کے قریب تر ہے.قائدین ،پارلیمانی لیڈرز و ممبران قانون ساز اسمبلی کی عوامی مسائل و مشکلات کے ازالہ کی ٹھوس منصوبہ بندی سے دوری،تعلیم،صحت اور روزگار کی فراہمی میں تقریباً ناکامی کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی تو عشروں سے موجود تھی لیکن ریاستی عوام بالخصوص نوجوانوں کا پارلیمانی نظام سے اعتماد اس وقت مجروح ہوا جب ریاست کی سیاسی جماعتوں اور نامور لیڈرز نے رات کی تاریکی میں محض ایک حلقہ انتخاب تک محدود،ریاستی سیاست سے نابلد ایک اجنبی کو وزرات عظمٰی سونپ دی۔اس غیر مقبول فیصلہ سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں کو شدید دھچکا لگا۔نوجوانوں میں یہ سوال شدت سے ابھرا کہ ووٹ ہم کسی اور کو دیتے ہیں منصب کوئی اور سنبھال لیتا ہے۔ملکوں کی تاریخ میں کچھ لمحات ہی ہوتے جو مستقبل کا تعین کرتے ہیں اگر قائدین اس غیر مقبول فیصلہ کے خلاف کھڑے ہو جاتے تو آج ریاست میں افراتفری اور انتشار کی کیفیت ہرگز نہ ہوتی۔راقم نے ایک صحافی اور شہری کی حثیت سے عوامی جذبات و احساسات کو جموں کشمیر ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک کے پروگرامز میں نمایاں کیا۔آرٹیکل لکھے کہ چوہدری انوار الحق وزارت عظمیٰ کے لائق ہی نہیں۔انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں انکی کوئی جماعت نہیں کوئی سیاسی ریاضت نہیں۔انہیں وزارت عظمیٰ سونپ کر آزاد کشمیر میں مملکت پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔اس فیصلے سے نوجوانوں اور ریاست میں فاضلہ بڑھے گا۔وغیرہ وغیرہ وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ جو ہم لوگ کہہ رہے تھے وہی ہوا۔انوار الحق کے بدترین دور نے آزاد کشمیر میں سیاسی و پارلیمانی نظام کی تباہی کی بنیادیں رکھیں۔مملکت پاکستان کے مفادات کو شدید ترین نقصان پہنچایا۔ایسی قوتیں توانا ہوئیں جنکا پارلیمانی نظام پر یقین ہی نہیں تھا اور جن کے اذہان میں مملکت پاکستان کے خلاف بغض بھرا ہوا ہے ۔نوشتہ دیوار ہے کہ اس غیر مقبول فیصلے کا خمیازہ یہ ریاست اور عوام مدتوں بھگتی رہے گی۔مملکت پاکستان،ریاست اور عوام کے حقوق کی ترجمانی میں کی گئی باتوں کے کلپ مخصوص انداز میں ایڈٹ کر کے اور سچی جھوٹی باتیں ملکی و ریاستی مفادات کو پس پشت ڈال کر ہر حکمران کے تلوے چاٹ کر مالی مادی مفادات سمیٹنے والے صحافیوں نے باقاعدگی سے وزیراعظم سمیت دیگر مقامات تک پہنچائیں ۔۔انوار الحق فکری و فطری طور پر چھوٹے انسان تھے انہوں نے سچ کہنے ،لکھنے پر راقم کو نشانہ پر رکھ لیا۔انوار الحق نے شروع میں سپیشل برانچ،ائی بی میرے پیچھے لگا دی۔پریس کلب جاؤں تو صحافی بتائیں سپیشل برانچ والے یا آئی بی والے آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔۔دوست احباب بھی بتائیں کہ آپ نے کیا کر دیا ہے جو ادارے پوچھ گچھ کر رہے ہیں ۔انوار الحق شاید سمجھ رہا تھا کہ میں نے دیگر صحافیوں کی طرح کوئی پلاٹ الاٹ کرایا ہو گا۔ لوکل گورنمنٹ سے کوئی سکیم لی ہو گی۔خالصہ سرکار،محکمہ اوقاف یا جنگل کا رقبہ کے نمبرات تبدیل کرا کے اپنے نام کرایا ہو گا۔۔سادہ لوح افراد سے کسی رقبہ کا مختار عام لیکر جنگل یا رقبہ فروخت کیا ہو گا۔۔دیانتداری کا لبادہ اوڑھ کر سرکاری اداروں سے غیر قانونی سپلائی آرڈر یا جعلی ٹینڈر لیے ہوں گے۔۔۔۔لوکل گورنمنٹ یا دیگر محکموں میں تصریحات کے مغائر سپلائی کی ہو گی۔۔۔سگریٹ مافیا،قبضہ مافیا یا سرکاری محکموں،وزرا،ممبران اسمبلی یا بیوروکریٹس کے خلاف پہلے خبریں آرٹیکل لکھ کر بلیک میل کرنے کے بعد مال پکڑا ہو گا۔۔۔کم سے کم سرکاری محکموں یا ٹھیکیداروں سے پیسے لیکر ڈمیاں چھاپ کر دی ہوں گی۔۔میں نے کوئی جعلسازی کی ہوگی۔کہیں سے کوئی پیسے پکڑے ہوں گے کچھ تو ضرور ایسا کیا ہوگا جو قابل گرفت ہو۔۔۔سر تا پا کرپشن میں ڈوبے معاشرہ کا ادنیٰ سا تقریباً غریب فرد ہونے کے باوجود
الحمدللہ اس کوتاہ بین کو منہ کی کھانی پڑی۔۔۔وزات عظمیٰ جیسے منصب جلیلہ پر براجمان یہ چھوٹا شخص باز نہ آیا۔۔۔ریاستی آئین و قانون کو ملیا میٹ کرنے کا سب سے گھناؤنا واقعہ دس دسمبر 2024 کو پریس فاؤنڈیشن کے انتخابات میں پیش آیا۔ریاستی عوام بالخصوص نوجوان نظام سے مایوس کیوں ہے؟یہ محض ایک جھلک ہے۔یقین کیجیے اس طرح کے مظاہر جابجا بکھرے پڑے ہیں ۔پریس فاؤنڈیشن ضلع مظفرآباد کے انتخابات میں ایسے واقعات نمایاں ہیں جنہوں نے ریاستی نظام اور اداروں کا کھوکھلا پن نمایاں کیا۔چیف الیکشن کمشنر/سیکرٹری پریس فاؤنڈیشن عنصر یعقوب صاحب نے ممبران کی لسٹ میں آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی سے منظور کردہ پریس فاؤنڈیشن ایکٹ کے تحت نا اہل ہونے والے ممبر کا نام شامل نہ کیا اور لسٹ جاری کر دی وہ جانتے تھے اس نااہل شخص کی ممبرشپ کا ابتدائی،بنیادی پراسیس ہی نہیں ہوا اس بندے کا سارا نظام ہی جعلسازی پر مبنی ہے۔محترم عنصر یعقوب کا تبادلہ ہو گیا۔نئے سیکرٹری اطلاعات سردار عدنان خورشید تعینات ہو گئے جن کا پس منظر اور خاندانی تعلق جاننے کی وجہ سے انتہائی اطمینان تھا نئے سیکرٹری صاحب کی لسٹ میں سابق سیکرٹری صاحب کی جانب سے لسٹ سے خارج کیے گیے نام غیر قانونی طور پر شامل کر لیے گئے چیف الیکشن کمشنر/ سیکرٹری اطلاعات نے 75 ووٹرز کی فہرست جاری کی جس میں ایک ووٹر فھیم احمد کے نام کے آگے لکھا۔۔۔۔فی الحال بیرون ملک مقیم ہیں۔۔۔
پولنگ سے بالترتیب بارہ اور دو دن قبل محترم روشن مغل صاحب اور تقی الحسن سعودی عرب اور تھائی لینڈ روانہ ہو گے۔دس دسمبر کو حکومتی،ادارہ جاتی ننگی جارحیت کے بعد پولنگ ہوئی میں نے 38 ووٹ حاصل کیے جو پول شدہ ووٹوں کے 53 فیصد ہیں۔جب کہ رولز کے مطابق کامیاب امیدوار کے لیے 51 فیصد حاصل کرنا ضروری تھے۔پریس فاؤنڈیشن ایکٹ و رولز کے مطابق میری کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے بجائے گھاگ بیوروکریٹ چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم اور دیگر اہم ترین شخصیات کے دباؤ پر غیر قانونی طور پر ری پولنگ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔آزاد کشمیر کے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا نظام کس قدر تباہ حال ہے۔محض ایک شخص نے وقت کے طاقتوروں کی خوشنودی کے لیے نہ صرف قانون ساز اسمبلی سے منظورکردہ ایکٹ کو پاؤں تلے روندا بلکہ پاکستان کے آئین و دستور کو بھی پائمال کیا۔تین ووٹرز جو ملک میں موجود ہی نہیں اور ایک ووٹر فھیم احمد کا چیف الیکشن کمشنر نے خود تسلیم بھی کیا کہ وہ بیرون ملک ہیں لیکن ان تینوں کی گنتی مظفرآباد میں کی جس سے ثابت ہوا ریاست اپنے ایکٹ یا قوانین کے بجائے افراد کی تابع ہے دلچسپ امر یہ کہ اگر ملک پاکستان کے آئین و دستور کے مغائر بیرون ملک مقیم ووٹرز کی گنتی کر بھی کر بھی لی جائے پھر بھی میرے ووٹ 50.66 بنتے ہیں۔میتھ کے اصولوں کے مطابق اگر 50 فیصد سے ایک نمبر بھی اوپر ہو گا تو وہ 51 فیصد ہی تصور کیا جائے گا۔چیف الیکشن کمشنر کی جاری کردہ لسٹ کے فھیم احمد کو ووٹ نہ گنا جاتا تو میرے ووٹ 51 فیصد سے زیادہ ہیں۔قارئین کرام! افسوسناک امر یہ ہے کہ انتخابات میں واضع کامیابی کے باوجود وزیراعظم کے حکم پر ریاستی ایکٹ آئین و دستور کو روندتے ہوئے مجھے باہر نکال دیا گیا۔لیکن غیر قانونی اقدامات اٹھانے والے جن کے خلاف جعلسازی کی ایف آئی آر اور فوجداری مقدمات بنتے ہیں وہ دھڑلے سے اپنی اپنی پوسٹوں پر براجمان ہیں۔یہ ریاستی قوانین اور نظام کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ریاست میں جوابدہی اور قانون کی بالادستی کا تصور تک نہیں رہا۔انوار الحق چلا گیا سب نے جانا ہے یہاں تک کہ ہر انسان کو مرنا بھی پڑے گا۔ریاست کا نظام اس قدر آلودہ و پیچیدہ ہے کہ مدت گزر گئی اس غیر قانونی عمل کی بیخ کنی کا اہتمام نہ ہو سکا۔جب ریاست، ریاستی قوانین اور ادارے کرسی پر بیٹھے افراد کے ماتحت ہوں گے تو خلق خدا مایوس ہی ہو گی نوجوان نظام سے پہلے لاتعلق ہوگا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مزاحمت پر اترے گا۔ریاست اور عوام میں فاصلے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ان معاندانہ اقدامات کے مضمرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ممکنہ تباہی انارکی کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی بھی وقت ہے ریاست کے جید سرد و گرم چشیدہ سیاستدان زاتی و گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر ریاستی عوام کو گلے لگا لیں ریاستی اداروں کی مضبوطی کو یقینی بنائیں۔میرٹ،انصاف،دیانتداری اور سچائی کو پروان چڑھائیں۔کسی بھی ریاست کو بننے کے لئے ترقی کے لیے 78 سال بہت بڑا عرصہ ہے۔ڈنگ ٹپاؤ پالیسوں ،مصنوعی اقدامات کے بجائے خلق خدا کی زندگیاں آسان بنانے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح بنا لیا جائے تو نظام پر اعتماد کافی حد تک بحال ہو سکتا ہے۔ریاست میں سیاسی و سماجی استحکام من پسند اقدامات سے نہیں آ سکتا۔ریاستی عوام کو ریاستی امور میں شراکت دار بنانے کی ضرورت ہے۔۔ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے۔۔۔۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.