آبادی پرقابو پانے کیلئے نیشنل پاپولیشن کونسل کاقیام، بڑھتی آبادی ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کو قومی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ملکی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے نیشنل پاپولیشن کونسل کا پہلا اجلاس جلد طلب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت بہبودِ آبادی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جو ملک کی ترقی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار
شہباز شریف نے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور آبادی سے متعلق قومی سطح کی پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اعلامیے کے مطابق نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ فریقین شامل ہوں گے۔
اجلاس میں ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس پر قابو پانے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہوگا۔
مزید بتایا گیا کہ آبادی میں توازن اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ بریفنگ میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کی مثالیں پیش کی گئیں، جہاں آبادی پر قابو پانے کے کامیاب پروگرام نافذ کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں عاصم منیر، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔