وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین فرینڈشپ اسپتال میں مریضوں کو 100 فیصد مفت علاج فراہم کرنے اور علاج کے تمام اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی مشکلات کسی شہری کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ چین کے تعاون سے کووڈ-19 کے دوران تعمیر ہونے والے 182 بستروں کے اسپتال کی بحالی سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر علاقوں کے مریضوں کو معیاری طبی سہولتوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نے اسپتال کے طویل عرصے تک غیر فعال رہنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خدمات کے معیار اور انتظامی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاک چین فرینڈشپ اسپتال کی بحالی اور افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی فلاح کے لیے قائم طبی اداروں کو فعال رکھنا اور ان کی سہولتوں سے عوام کو مستفید کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتال میں مریضوں کے علاج کے 100 فیصد اخراجات حکومت برداشت کرے، تاکہ کوئی مریض مالی وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔
مفت علاج کی اس ہدایت کا بنیادی مقصد مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے بھاری اخراجات سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بیماری کے دوران مالی پریشانی اکثر خاندانوں کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرتی ہے، اس لیے اسپتال میں بلا معاوضہ علاج کی فراہمی سے مستحق اور ضرورت مند مریضوں کو سہارا ملنے اور معیاری طبی سہولتوں تک رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران پاکستان کو یہ اسپتال بطور تحفہ دیا تھا، تاہم وبا کے خاتمے کے بعد یہ کئی سال تک غیر فعال رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اخباری رپورٹ پڑھنے کے بعد انہوں نے فوری نوٹس لیا اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کو اسپتال کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے اسپتال کے طویل عرصے تک بند رہنے پر افسوس کا اظہار کیا اور چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کے ذریعے چینی حکومت اور عوام سے معذرت بھی کی۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی وسائل اور طبی انفرااسٹرکچر کو عوام کی خدمت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے اسپتال میں علاج کے معیار، انتظامی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت کی، تاکہ ادارے کی کارکردگی اور جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال میں مجموعی طور پر 182 بستروں کی گنجائش ہے، جن میں 50 انتہائی نگہداشت کے بستروں پر مشتمل آئی سی یو سہولت بھی شامل ہے۔ اسپتال سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت اور انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کے اشتراک سے اسپتال کا انتظام چلایا جائے گا، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مریضوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 200 بستروں پر مشتمل کینسر اسپتال تیار کیا گیا ہے، جسے آئندہ سال فعال کرنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کو کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کی سہولتوں میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے اسپتال کا نام پاک چین فرینڈشپ اسپتال رکھنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ایک آئسولیشن اسپتال سے جنرل اسپتال میں تبدیل ہو چکا ہے اور عوامی فلاح کے لیے اس کی بحالی اہمیت رکھتی ہے۔ چینی سفیر نے پاکستان میں عوام کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاک چین تعاون کو مزید وسعت دینے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت کی خواہش کا اظہار کیا۔
انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالباری خان نے بتایا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں 15 اسپتال، 140 بنیادی صحت کے مراکز، چار بلڈ سینٹرز اور چار بحالی مراکز چلا رہا ہے، جہاں ہر ماہ تقریباً سات لاکھ مریضوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ پہلے سال ایک ارب روپے تھا، جو موجودہ سال میں بڑھ کر 68 ارب روپے ہو چکا ہے، جبکہ اس بجٹ کا تقریباً 70 فیصد پاکستان کے اندر سے جمع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں بلڈ سینٹر قائم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔
پاک چین فرینڈشپ اسپتال کی عمارت 2020 میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے تعاون سے صرف 40 روز میں تعمیر کی تھی۔ اس منصوبے کے لیے چین نے 40 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کیے تھے، جبکہ تعمیر کی مجموعی لاگت تقریباً 98 کروڑ روپے بتائی گئی۔ کووڈ-19 کے دوران قائم ہونے والا یہ مرکز وبا کے بعد طویل عرصے تک فعال نہ ہو سکا، جس کے بعد اب اسے جنرل اسپتال کے طور پر بحال کیا گیا ہے۔
اسپتال کا نام چین کے مالی تعاون اور دونوں ممالک کی دوستی کے اعتراف میں پاک چین فرینڈشپ اسپتال رکھا گیا ہے۔ اس کی بحالی کے ساتھ حکومت کی جانب سے 100 فیصد مفت علاج کی ہدایت اس منصوبے کا اہم پہلو ہے، جس کا مقصد طبی سہولتوں کو عوام کے لیے قابل رسائی بنانا، علاج کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا اور مریضوں کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کرنا ہے۔



