ذرائع کے مطابق حکومت بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نئے نظام کا بنیادی مقصد بجلی اور گیس پر رعایت اور سبسڈی کو صرف حقیقی مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت بجلی کے شعبے میں سبسڈی کا نیا طریقہ کار جنوری 2027ء سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ گیس صارفین کے لیے یہ نظام یکم جولائی 2027ء سے متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
کرنٹ سے ہاتھ گنوانے والی بچی کے تمام علاج کا خرچ پیسکو کو اٹھانے کا حکم
نئے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے پاور ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی خصوصی سماجی و اقتصادی رجسٹری تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مستحق صارفین کی رجسٹریشن کا اہم ہدف رواں برس نومبر تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے اور مکمل تصدیق کے بعد اسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بنیادی ریکارڈ سے منسلک کر دیا جائے گا، تاکہ نئی رجسٹری کے ذریعے صرف ان افراد کی نشاندہی کی جا سکے جو واقعی مالی امداد اور سبسڈی کے حقدار ہیں۔
اس عمل کے نتیجے میں جنوری 2027ء تک بجلی کے شعبے میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی کا پرانا نظام مستقل طور پر ختم ہو جائے گا، جبکہ گیس صارفین کو بھی یکم جولائی 2027ء سے اسی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا جائے گا۔
توانائی کے شعبے پر طویل عرصے سے موجود گردشی قرضے کے بھاری دباؤ کو کم کرنے کے لیے سبسڈی کے پورے ڈھانچے میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے بھی بنیادی ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے باقاعدہ درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے جاری تیاریوں پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا ہے، تاکہ گردشی قرضوں کے مستقل خاتمے اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔



