جسٹس اعظم خان کی عدالت نے کیس کا 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پیسکو کی درخواست خارج کر دی اور متاثرہ بچی کے علاج اور بحالی کے انتظامات سے متعلق حکم برقرار رکھا۔

عدالت نے پیسکو کو ہدایت کی کہ بچی لبابہ کی آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن، راولپنڈی سے جامع طبی جانچ کرائی جائے۔ پیسکو بچی کے جدید مصنوعی اعضا، علاج اور بحالی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پابند ہوگی۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جا رہا ہے
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر ضروری علاج یا مصنوعی اعضا کی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہوئی تو پیسکو کو بیرونِ ملک علاج کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ذمہ داری صرف بلا تعطل بجلی فراہم کرنا نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین نے کیس کی پیروی کی۔
واضح رہے کہ جولائی 2021 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے پیر قلعہ میں 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی لائن گرنے سے بچی لبابہ شدید جھلس گئی تھی۔ حادثے کے نتیجے میں اس کے دونوں ہاتھ کاٹنے پڑے، جس کے باعث وہ مستقل معذوری کا شکار ہوگئی۔
بچی کے اہلِ خانہ نے معاوضے اور علاج کی فراہمی کے لیے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔ وفاقی محتسب نے ابتدائی طور پر شکایت منظور کرلی، تاہم بعد ازاں نظرثانی اپیل میں فیصلہ تبدیل کردیا گیا۔
بعد ازاں صدرِ پاکستان نے 30 اکتوبر 2025 کو اپنے فیصلے میں پیسکو کو بچی کے علاج اور مصنوعی اعضا کی فراہمی کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔



