Gas Leakage Web ad 1

کوئٹہ میں مصنوعی اور خودساختہ مہنگائی(نذروڑائچ کی خصوصی رپورٹ)

0

کوئٹہ میں مصنوعی اور خودساختہ مہنگائ عروج پر
انتظامیہ کی مصلحت
حکومت کی مجرمانہ خاموشی
عوامی آواز زور مافیا کے ہتھکنڈے

Gas Leakage Web ad 2

تحریر:نذر بڑیچ
(کنزیومر وائس کوئٹہ)

کوئٹہ پاکستان کا مہنگا ترین شہر کے طور پر نمایاں ہے۔ جن ے مختلف عوام ہوسکتے ہیں۔ جب ست صوبہ بنا ہے شروع شروع جب سیاسی پارٹیوں کہ حکومت تھی انتظامی گرفت مظبوط ہوا کرتی تھی۔ جب سے لسانی تعصب کو پروان چڑھاتے گئے ۔ مذہب کو کاروباری ذریعہ بنایا گیا ۔ سیاسی قوت سیاست کے بجائے تجارت شروع کی سیاسی لیڈر ڈیلر بن گئے ۔ اراکین اسمبلی قانون سازی کے بجاے پی ایس ڈی پی۔اور ٹھیکیدار بن گئے ۔ بیوروکریسی بالخصوص ملٹری بیوروکریسی نے اداروں میں شریک کار رہے اس وقت سے تباہی کا آغاز ہوا ہے۔ سیکورٹی فورسز اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے کاروباری بن گیئے ۔ آج کوہٹہ کو چاروں طرف ایف سئ و دیگر سیکورٹی فورسز نے گھیر کر رکھا ہے ۔ایک بوری آٹا ۔ بکری ۔چینی لے جانے اور لانے پر ہر چیک پوسٹ پر بھتہ دینا پڑتا ہے۔ تاجر تجارت کرنے کےبجائے سارا دن سرکاری اداروں میں لین دین میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ایک ڈپٹی کمشنر سرکاری و قانونی طور پر تعینات نہیں ہوتے ہیں یا تو بھاری رقم دے کر تعینات ہوتے ہیں یا سیاسی طور پر متعلقہ علاقے کے ایم پے اے یا ایم این اے کے صوابدید پر ہوتے ہیں۔ پھر جو وہ چاہتے ہیں جس چیز میں دلچسپی ہوتی ہے وہ ہئ کرتے ہیں۔ چمن کے ڈپٹی کمشنر کے ترجیحات کچھ اور ہوتے ہیں اور خاران مکران گوادر موسی خیل کے کچھ اور ہوتے ہیں۔ ہر ضلع میں علحدہ علحدہ حکومت اور ترجیحات ہیں۔کوئٹہ کوآرڈینیشن نہیں۔ چمن جہاں نہ کھیت ہے نہ ہئ باغات اور نہ ہئ زراعت وہاں دودھ 130۔ اور 140 روپے لیٹر جبکہ کوئٹہ میں جہاں ہر قسم کی سہولت مارکیٹ ہیں کوہٹہ میں 200 اور 220 روپے فی لیٹر دودھ فروخت ہورہی ہیں چمن کے انتظامیہ کی دلچسپی بارڈر سمگلنگ میں جبکہ کوہٹہ پھر کسی اور چیز میں ہیں گوشت کے لیے جانور 90 فیصد افغانستان سے نوشکی کے راستے جانور سمگلنگ کی شکل میں کوہٹہ لائ جاتی ہیں۔ایک ٹرک نوشکی سے کوئٹہ لانے پر صرف ایف سی ۔ لیویز کو دو سے تین لاکھ روپے تک بھتہ کی صورت میں خرچہ آتا ہے۔پنجاب کے لیڈی ڈیانا نے بلوچستان میں آٹا لانے پر پابندی لگائی ہیں امتیاز کا یہ عالم ہے کہ پنجاب میں آٹا 20 کلو 1300 روپے مقرر کردیا گیا۔ جبکہ کافر بلوچستان میں 2900 روپے میں 20 کلو آٹا دستیاب ہے حالانکہ پاکستان کا مرکزی مسلم لیگ۔ پنجاب میں مسلم لیگ بلوچستان۔ نیم مسلم لیگ نیم پی پی پی کا حکومت ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ پنجاب میں اصلی حکمران پنجابی مسلم لیگ کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں جبری بلوچ مسلم لیگ کی حکومت ہے۔ ۔
اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مظبوط عوامی حکومت اور عوام کو جوابدہ انتظامیہ کی ضرورت ہے ۔ لیکن ہہاں کی ساری حکومت۔ فارم 47 کی بنی ہوئی ہیں۔ 47 فارم جاری کرنے والے ہی ان تمام جرائم کے ذمہ دار ہیں۔اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کو پہلے فارم 45 کے لیے نکلنا ہوگا ورنہ فارم 47 کی پیداوار کی مہنگائی لاقانونیت۔ ظلم جبر ۔ بے انصافی۔اپنی تبائ اور معاشی اقتصادی معاشرتی انسانی وحشت وبربریت کو برداشت کرنا ہوگا۔ ۔
باقی تفصیل کوہٹہ میں مہنگائی کی وجہ اور صورتحال اگلے قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.