وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزراء اور اہم ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اسرائیل جانیوالے طیارے کا واقعہ ممکنہ طورپر دہشتگردکارروائی تھی: سکیورٹی حکام
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی، جبکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان اور بیک ڈور رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 پر آرا لی گئیں۔ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر صدر آصف زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کا بھی امکان ہے، جس میں آئینی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھا رہی ہے اور ٹی ٹی پی کے خطرے کے خلاف اداروں کو تعاون فراہم نہیں کر رہی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس نے وفاقی وزراء کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت چاہے کچھ بھی کرلے، لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔



