حساس معلومات اے آئی پلیٹ فارمز پر فراہم کرنے سے ڈیٹا لیک کے خطرے کے پیش نظر سرکاری ملازمین کو کلاسیفائیڈ دستاویزات پبلک اے آئی ٹولز پر اپ لوڈ کرنے سے روک دیا گیا۔
نیشنل سرٹ نے نیشنل سائبر سکیورٹی ہینڈ بک 2026-27 جاری کردی ہے، جس میں پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026 کے اصول شامل کیے گئے ہیں۔
این اے 77 پر ضمنی انتخاب 8 نومبر کو ہوگا، شیڈول جاری
نیشنل سرٹ کی جانب سے سرکاری ای میلز اور سافٹ ویئر سورس کوڈ پبلک اے آئی پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ شہریوں کی ذاتی معلومات پبلک اے آئی ٹولز پر اپ لوڈ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیشنل سرٹ کے مطابق حساس معلومات اے آئی پلیٹ فارمز پر فراہم کرنے سے ڈیٹا لیک کا خطرہ موجود ہے، اس لیے سرکاری اہلکار صرف اپنے محکموں سے منظور شدہ اے آئی ٹولز استعمال کریں۔
اے آئی پرامپٹس اور فائلوں سے نام اور حساس معلومات ہٹانے، جبکہ خفیہ معلومات کے حادثاتی افشا کی صورت میں فوری طور پر سائبر سکیورٹی ٹیم کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین کو اے آئی ٹولز پر پاس ورڈز اور انتظامی لاگ اِن کی تفصیلات شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اے آئی ٹولز پر اے پی آئی کیز شیئر کرنے کی بھی ممانعت کردی گئی ہے۔
سرکاری ڈیوائسز پر غیر منظور شدہ اے آئی ایکسٹینشنز اور پلگ اِنز کی تنصیب پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ سرکاری کام میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی درستگی اور سکیورٹی کی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔
انسانی نگرانی کے بغیر اے آئی سے تیار کردہ مواد سرکاری امور میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا، جبکہ سرکاری امور میں اے آئی کے استعمال کو سکیورٹی، رازداری اور انسانی نگرانی سے مشروط کردیا گیا ہے۔
نیشنل سرٹ نے اے آئی گائیڈ لائنز اور سرکاری ڈیٹا کے تحفظ پر خصوصی زور دیا ہے۔