Gas Leakage Web ad 1

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

0

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن اور کانٹیکٹس تک ایپس کی خفیہ رسائی اور صارفین کو اس کا مکمل ادراک نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

“Accept” یا “Allow” پر کلک کرنے سے ذاتی ڈیٹا تک رسائی، لوکیشن اور سرچ ہسٹری محفوظ ہونے جبکہ الگورتھمز کے ذریعے سیاسی، مذہبی اور ذاتی ترجیحات کا اندازہ لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

صارف کا ڈیٹا اہم اثاثہ ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کے پرائیویسی حقوق پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ویکسینیشن کے بغیر عمرے پر جانے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی
ایک حالیہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور گوگل جیسے عالمی پلیٹ فارمز صارفین کے فون اور آن لائن سرگرمیوں سے وسیع پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، جس میں براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن، کانٹیکٹس، فائلز اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں فیس بک کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد اس کے مقابلے میں کم ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی اکاؤنٹ یا ایپ متعدد ڈیوائسز پر کیوں استعمال ہوتی ہے اور ڈیٹا کس حد تک پھیل چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید ایپلیکیشنز صارفین سے مختلف قسم کی اجازتیں حاصل کرتی ہیں، جن کے ذریعے وہ لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز، مائیکروفون اور دیگر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ رسائی اکثر صارفین کی جانب سے “Accept” یا “Allow” کے ذریعے دی جاتی ہے، جس کا مکمل ادراک عام صارف کو نہیں ہوتا۔

بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام نہ صرف آن لائن سرگرمیوں بلکہ آف لائن ڈیٹا جیسے ڈیوائس انفارمیشن، ایپ استعمال کے پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کو بھی مختلف طریقوں سے جمع کرسکتے ہیں۔

اسی طرح گوگل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی سروسز کے ذریعے صارفین کی طویل مدتی لوکیشن ہسٹری اور سرچ سرگرمیوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے، جو بعض صورتوں میں کئی سال پر محیط ہوتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.