میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے صفورا چورنگی پر جامعہ کراچی کے اساتذہ پر تشدد کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر سے اب ڈالا کلچر کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عوام کا مقدمہ لڑنے کے لیے لوگوں کو تکلیف میں ڈالنا درست عمل نہیں۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرے اور عوام کو مشکلات سے دوچار نہ کرے۔
ایس آئی ایف سی کی ون ونڈو سہولت کاری، معاشی مواقع اور کاروباری ترقی کے نئے دور کا آغاز
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں معاشی مسائل موجود ہیں اور ان کا اثر پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایسی شاہراہ کو بند کرنا درست نہیں جہاں سے لاکھوں افراد گزرتے ہیں۔ لوگ جتنا زیادہ ٹریفک میں پھنسیں گے، اتنا ہی زیادہ پیٹرول خرچ ہوگا۔ میں جماعت اسلامی کو کوئی اور جگہ دیتا ہوں، آپ وہاں احتجاج کریں۔ لوگوں کا حق ہے کہ ان کے مسائل حل ہوں، تاہم میں عوام کو تکلیف میں ڈال کر سیاست کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔
میئر کراچی نے کہا کہ شہر کی انتظامیہ سڑکوں پر کام کرتی نظر آتی ہے، اگرچہ کام کرنے کے طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر کام کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم پر سیاسی کھینچا تانی کو ختم کرنا ہوگا۔ سٹی کونسل کے اجلاس میں ہماری رہنمائی کی جائے کہ پانی کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔
جامعہ کراچی کے استاد عارف صاقی پر تشدد کے واقعے سے متعلق سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ بڑوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے اور اساتذہ کا احترام تو بہت ضروری ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ تھا اور اس کا مقدمہ درج ہوچکا ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہر سے اب یہ ڈالا کلچر ختم ہونا چاہیے۔ ہم سب کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون کا ساتھ دیں۔ میں آیا ہوں، وزیراعلیٰ آئے، کوئی ڈالا نہیں تھا، جبکہ ہر شخص اپنا گارڈ لے کر گھوم رہا ہے۔ اس کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔