سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر قید اور جرمانے کی سزاؤں سے متعلق بل کی منظوری دے دی، جبکہ تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال پر پابندی کا بل بھی منظور کرلیا گیا۔
ایپل نے آئی فون 18 پرو اور پرو میکس متعارف کروا دیئے، قیمت میں اضافہ، بیٹری پرفارمنس میں بہتری
کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جنرل کاسمیٹکس بل 2026 پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے بتایا کہ ملک میں کاسمیٹکس کے حوالے سے کوئی حکومتی کنٹرول موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیوٹی کریم میں مرکری کے استعمال سے جلد کا کینسر پھیل رہا ہے، جبکہ قانون سازی اور معیار نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس برآمد بھی نہیں کی جاسکتیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ کاسمیٹکس بنانے والے ارب پتی بن چکے ہیں اور چیچہ وطنی اس حوالے سے سب سے بڑا مرکز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے لوگ بیگ بھر بھر کر کاسمیٹکس لاتے ہیں، جو بڑے اسٹورز پر فروخت کی جاتی ہیں۔
بل میں کاسمیٹکس کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر سات سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ غیر معیاری کاسمیٹکس کی روک تھام کے لیے ایک اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔
کمیٹی نے دونوں بل اتفاق رائے سے منظور کرلیے۔