سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے موجودہ کاروباری اوقات کار میں ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کردی ہے، جبکہ پاور ڈویژن نے کاروباری اوقات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے لیے 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی اور فرنس آئل پلانٹس چلانے کی صورت میں فی یونٹ فیول کاسٹ میں 5 روپے اضافہ ہوجائے گا۔
چیئرمین پی سی بی سینیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی سے مایوس، جونیئر کھلاڑیوں کو موقع دینے کی ہدایت
سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں کاروباری برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس اسی وقت بڑھے گا جب کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ ملک کے پاس صرف ایک دن کا ایل این جی اسٹاک موجود ہے، جبکہ اسپاٹ کارگوز منگوانے کی صورت میں بجلی مزید مہنگی پڑے گی۔
اجلاس میں کاروباری اوقات کار کو بتدریج معمول پر لانے کے لیے 30 منٹ اضافے کی سفارش کی گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، صنعتی پالیسی اور کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے کے امور پر بھی غور کیا گیا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشترکہ کمیٹیوں کے قیام سمیت اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے اور لاہور میں بھی دو روزہ کیمپ آفس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی ہے اور پاکستان کے صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا ہے۔