امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو سخت معاشی دباؤ اور عالمی سطح پر غیر معمولی اقتصادی تنہائی کا سامنا کرنے کی دھمکی دی ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو ایسی معاشی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں اور دیگر معاشی اقدامات کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا کی نئی حکمت عملی کے تحت ایران کو عالمی معیشت سے مزید الگ کرنے کے لیے مختلف معاشی اقدامات شامل ہوں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آئندہ ہفتے مزید اقدامات کا اعلان کر سکتا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث ایران کی بندرگاہوں سے سامان کی آمد و رفت متاثر ہوگی اور کچھ حد تک اندرونِ ملک سامان کی ترسیل بھی مشکل ہو جائے گی۔
بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ میں بھی مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی تجارت، آمدنی اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی کئی اہم بندرگاہیں اور توانائی کی تجارت اسی سمندری راستے سے منسلک ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ یا ناکہ بندی سے نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی اور تجارتی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی انتہائی شدید ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اگر امریکا کی جانب سے آئندہ ہفتے مزید سخت معاشی اقدامات کیے جاتے ہیں تو ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔