سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار موت کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارش پر جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کیس سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کو کمیشن کے ماتحت کردیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کی کینیڈین وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات میں اب تک ایسا کچھ سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ میر رضا کی موت کے پیچھے کوئی ہائی پروفائل شخصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیس میں جوڈیشل کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ انہوں نے کیس کی تحقیقاتی کمیٹی بھی تبدیل کردی ہے اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نئی تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کے اہلخانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ جس پولیس افسر کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنا چاہیں گے، اسے ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کیس کی جوڈیشل انویسٹی گیشن ہائیکورٹ کے ججز سے کرائی جائے گی۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس میں قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا رخ تبدیل ہوگیا ہے۔ اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کردی گئی ہے، جبکہ کیس کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی نئی تحقیقاتی ٹیم کا پہلا اجلاس کل ہوگا۔