سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ممکنہ حملوں میں توانائی کی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری و معاشی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سپن بولر نعمان علی کا کاؤنٹی کرکٹ سے معاہدہ طے
سعودی حکام نے ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہے، جس کے باعث بیک وقت مختلف سمتوں سے حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران سمیت مختلف فریقوں کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھی کی جا سکتی ہیں۔
سعودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون انتہائی مضبوط ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔