Gas Leakage Web ad 1

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو صحت مند رکھنے میں مددگار آسان عادات

0

ہمارا دماغ جسم کے کنٹرول سینٹر کی حیثیت رکھتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو جاری رکھتا ہے، پھیپھڑوں کو سانس لینے میں مدد دیتا ہے اور ہمیں چلنے پھرنے، سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔

عمر میں اضافے کے ساتھ دماغ بتدریج تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کیخلاف مشترکہ تحریک چلانے کیلئے تحریک انصاف کے جے یوآئی سے رابطے
ماہرین کے مطابق چند آسان عادات کو اپنانے سے دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔

نیند کا خیال رکھیں

ماہرین کے مطابق ہر رات 6 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند دماغی صحت کے لیے بہترین چیزوں میں سے ایک ثابت ہوتی ہے۔

نیند کے دوران دماغ کو نئی معلومات کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے، یادیں تشکیل پاتی ہیں، نئے خیالات اور تصورات ذہن میں ابھرتے ہیں، جبکہ الزائمر کا خطرہ بڑھانے والے پروٹینز کے اجتماع کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

نیند دماغی لچک میں بھی اضافہ کرتی ہے، جس سے دماغ کے لیے نئی چیزوں سے مطابقت پیدا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں

نئے لوگوں، مقامات اور چیلنجز کا سامنا کرنے سے دماغ کو متحرک رکھنے میں مدد ملتی ہے، دماغی لچک میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ مضبوط رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کچھ نیا کرنے سے مراد یہ نہیں کہ لازمی طور پر زیادہ پیسے خرچ کیے جائیں، سفر کیا جائے یا کوئی نیا مشغلہ اپنایا جائے، بلکہ عام سرگرمیاں جیسے پزل حل کرنا، نئی چیزیں سیکھنا یا نئے لوگوں سے ملنا بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دل کو متحرک رکھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ورزش کرنا دماغ کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جسمانی سرگرمیوں سے دماغ تک خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جس کے لیے مضبوط دل ضروری ہے تاکہ دماغ کو مسلسل مطلوبہ خون اور آکسیجن فراہم کی جا سکے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش کرنے والے افراد میں الزائمر جیسے امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ عمر بڑھنے کے باوجود دماغی تنزلی کا سامنا کم ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جس حد تک ممکن ہو جسم کو متحرک رکھنا چاہیے، کیونکہ کچھ نہ کرنے کے مقابلے میں معمولی ورزش بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔

دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں

تنہائی دماغی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دیگر افراد سے میل جول برقرار رکھا جائے۔

ماہرین کے مطابق سماجی طور پر متحرک افراد عموماً زیادہ لمبی زندگی گزارتے ہیں، جبکہ دوسروں کے ساتھ تعلقات جذباتی صحت کے لیے بہتر ہوتے ہیں، جس سے دماغی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ سماجی تعلقات ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کے خطرے کو کم کرتے ہیں اور مشکلات کا بہتر انداز میں سامنا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

متوازن غذا کا استعمال

پراسیس شدہ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی تنزلی کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں، جیسے فاسٹ فوڈ، کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ تمام امراض دماغی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

دماغ اور جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے پھلوں، سبزیوں، چکنائی سے پاک گوشت اور اناج پر مبنی متوازن غذا کو معمول بنانا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع ہونے والی معلومات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.