Gas Leakage Web ad 1

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تک گھٹا دیا

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک): ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے نئے مالی سال کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا تخمینہ کم کر کے 3.7 فیصد کر دیا ہے، جبکہ مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اے ڈی بی کی جاری کردہ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق 3.7 فیصد شرح نمو کے ساتھ پاکستان جنوبی ایشیا میں افغانستان اور مالدیپ کے بعد تیسری کم ترین معاشی ترقی رکھنے والا ملک بن گیا ہے، جبکہ 8.3 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی بنگلہ دیش کے بعد خطے کی دوسری بلند ترین شرح ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک میں بھی شامل کیا گیا ہے جن کی امریکا کو برآمدات پر 24 جولائی 2026 سے 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد ہونے کا امکان ہے۔

’طیارہ رول کر رہا ہے‘، تباہ ہونیوالے کارگو طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاورز کی آخری گفتگو

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کی بڑی وجوہات توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، ترسیلاتِ زر پر دباؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معیشت پر منفی اثرات ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھی پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ رواں سال اپریل میں اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 4.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تازہ جائزے میں اسے تقریباً ایک فیصد کم کر دیا گیا ہے۔

اے ڈی بی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان میں مہنگائی کی پیش گوئی بھی بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی ہے، جو جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش کی متوقع 8.8 فیصد شرح کے بعد دوسری بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو افغانستان، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی نئی تجارتی پالیسی کے تحت پاکستان سمیت 60 ممالک کی برآمدات پر 10 سے 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ترقی پذیر ممالک امریکی تجارتی پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے لیے مؤثر ٹیرف کی اوسط شرح 24.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اپریل 2025 سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔

دوسری جانب وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی جبری مشقت سے تیار یا حاصل کی گئی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ ایک پاکستانی وفد اس وقت امریکا میں موجود ہے تاکہ 24 جولائی سے مجوزہ اضافی ٹیرف سے بچنے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.