Gas Leakage Web ad 1

ہنہ اوڑک دہشتگرد حملہ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی دھرنے کے شرکا سے ملاقات، یقین دہانی پر احتجاج ختم

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک): بلوچستان کے علاقے ہنہ اوڑک میں دہشت گردی کے واقعے کے خلاف ائیرپورٹ روڈ پر جاری دھرنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد ختم کر دیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

وزیراعلیٰ بلوچستان دھرنے کے مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور مظاہرین کے تحفظات اور مطالبات سنے۔ اس موقع پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حکومت سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی موجودگی میں جو فیصلے کیے گئے اور جو وعدے کیے گئے، بطور وزیراعلیٰ وہ ان پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہیں۔

بلوچستان سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ٹرین سروس آج دوسرے روز بھی معطل رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو مالی امداد، روزگار اور ان کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ ریاست کو سازش کے تحت بدنام کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ 5 جولائی کو ہنہ اوڑک میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 11 افراد لاپتا ہو گئے تھے۔

دوسری جانب مانگی ڈیم حملے میں شہید ہونے والے 14 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔

شہداء کے لواحقین میتوں کے ہمراہ کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک میں احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

ادھر زیارت میں بھی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے باہر متاثرہ خاندانوں کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے، جہاں لواحقین نے دہشت گردی میں ملوث عناصر کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 6 جولائی کو کچ مانگی میں دہشت گردوں نے 21 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا تھا۔ بعد ازاں ان اہلکاروں کی میتیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کی گئیں۔ اس واقعے میں 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ ایک ڈی ایس پی سمیت 8 اہلکار محفوظ رہے تھے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.