اسلام آباد میں جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا اور جیل کی زندگی نے انہیں اس تکلیف کا احساس دلایا جو ایک بے بس قیدی محسوس کرتا ہے۔
کانفرنس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز، سہیل آفریدی، مراد علی شاہ اور سرفراز بگٹی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے چاروں وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ فسیلیٹیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا۔
خطاب سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں متعارف کرائی گئی جیل اصلاحات ان کے ذاتی تجربات کا نتیجہ ہیں کیونکہ انہوں نے خود جیل کی سختیاں برداشت کی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ وہ اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتیں، لیکن قید تنہائی کے ذہنی اثرات کو بخوبی سمجھتی ہیں کیونکہ وہ خود اس تجربے سے گزر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں جس پر گزرتی ہے، وہی اس اذیت کو سمجھ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں تمام قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان کے بقول جیل میں ان کے ساتھی صرف کتابیں اور جائے نماز تھیں، اور جیل میں جو کچھ دیکھا اسی کی بنیاد پر پنجاب کی جیلوں کو جدید بنانے اور نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ اور ان کے والد نواز شریف ایک ہی وقت میں جیل میں قید تھے جبکہ ان کی والدہ شدید بیمار تھیں، لیکن انہیں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جیل کاٹنے کی ان کی اپنی ایک کہانی ہے اور جیل میں موجود ہر قیدی کی بھی اپنی ایک داستان ہوتی ہے۔
جیل اصلاحات کرنی ہیں تو آغاز اڈیالہ جیل سے کیا جائے، سہیل آفریدی
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مرتبہ جیل میں ان کی شوگر بہت کم ہو گئی اور مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور گڑ والی بوتل ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی۔ انہوں نے زمین پر گرا ہوا گڑ اٹھا کر کھایا، جس میں شیشے کے ٹکڑے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ جیل میں کوئی پرائیویسی نہیں تھی۔ کمرے کے ایک حصے میں واش روم تھا اور دوسرے حصے میں سونے کی جگہ، جبکہ دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا پارٹیشن موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ جائے نماز کہاں بچھائیں، اسی لیے انہوں نے قیدیوں کے لیے مختلف اصلاحات متعارف کرائیں اور جیلوں میں ایمرجنسی بٹن سمیت متعدد جدید سہولیات فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں جیل میں رہ کر احساس ہوا کہ ایک بے بس قیدی کن مشکلات اور احساسات سے گزرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جس سیل میں انہیں رکھا گیا تھا، اس کے ساتھ کم عمر بچوں کا سیل تھا اور وہاں سے روزانہ بچوں کے رونے اور چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب نواز شریف جیل میں تھے تو ان کے ساتھ ہزاروں دیگر قیدی بھی پابند سلاسل تھے اور آج جب بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں تو ان جیسے ہزاروں دیگر قیدی بھی جیلوں میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیل اصلاحات کسی ایک شخصیت، خواہ وہ نواز شریف ہوں یا عمران خان، کے لیے نہیں بلکہ عام قیدیوں کے لیے کی جانی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوآبادیاتی دور کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی مریم نواز کو جیل میں ٹوٹی ہوئی بوتل سے گڑ اٹھا کر کھانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔