خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، سڑکیں، فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا جبکہ متعدد علاقوں میں آمدورفت اور مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہو گئے۔
چترال میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد مکانات اور مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ کئی سڑکیں بند ہونے کے باعث مختلف علاقوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جبکہ کھڑی فصلوں، باغات اور زرعی اراضی کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ناران: دریا میں ویڈیو بنانے کی کوشش سیاحوں کو مہنگی پڑگئی، گاڑی بہہ گئی
سوات، باجوڑ اور ایبٹ آباد میں بھی موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ باجوڑ کے متعدد نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہوئے اور کئی سڑکیں زیر آب آ گئیں، جس سے آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
دریائے سوات اور جامبیل خوڑ میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سوات کے علاقے چار باغ میں دریا کے کنارے پھنس جانے والے کئی بچوں کو ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت نکال لیا۔ ایبٹ آباد میں مانسہرہ روڈ پر ایک گاڑی سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئی، تاہم گاڑی میں موجود افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
اپر دیر میں واڑی کے علاقے اصوڑئی درہ میں ایک مدرسے کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں 28 طالبات زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق تمام زخمی طالبات کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع استور میں بھی شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو مزید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔