امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف کم کیلوریز والی غذا یا رات گئے کھانے سے پرہیز ہی نہیں بلکہ دن میں کھانے کا وقت بھی صحت اور عمر پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نےکرپٹوکرنسی کے کاروبار سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمالیے
یہ تحقیق امریکی ادارے UT Southwestern Medical Center کے ماہرین نے کی، جس میں چوہوں پر تجربات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق مخصوص اوقات میں کھانا کھانے سے عمر بڑھنے کے ساتھ صحت بہتر رہتی ہے اور دائمی بیماریوں کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ کیلوریز کی مقدار کم کرنے سے درمیانی عمر اور بڑھاپے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور دماغی تنزلی جیسے امراض کا خطرہ تقریباً 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رات دیر سے کھانے کے بجائے جلد کھانا کھانے سے مختلف بیماریوں کا خطرہ 35 فیصد تک گھٹ سکتا ہے۔
تحقیق میں 528 صحت مند چوہوں کا جائزہ لیا گیا۔ ایک گروپ کو جب چاہے کھانے کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ کو دن بھر کی خوراک صرف 2 سے 12 گھنٹوں کے مخصوص دورانیے میں دی گئی۔ ماہرین نے ان کی پوری زندگی کے دوران صحت اور عمر کا تجزیہ کیا۔
نتائج سے پتا چلا کہ جو چوہے اپنی روزانہ کی خوراک صرف 8 گھنٹوں کے اندر کھاتے تھے، ان کی اوسط عمر میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ان میں موٹاپے، دائمی بیماریوں اور عمر سے متعلق دیگر مسائل کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر روزانہ کی خوراک 12 گھنٹوں کے اندر کھائی جائے تو بھی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق انسانوں کے لیے ناشتے کے بعد تقریباً 12 گھنٹوں کے اندر تمام کھانا کھا لینا ایک بہتر حکمت عملی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے Nature Aging میں شائع ہوئی ہے۔