اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر چیف آپریشنز ایف بی آر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کر دی گئی، جبکہ ایف آئی اے کو انمول پنکی کیس کی مکمل تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
پیر کے روز ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بطور کنوینر کی۔ اجلاس کے دوران انہوں نے چیف آپریشنز ایف بی آر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افسران اہم عہدوں پر بٹھائے گئے ہیں جو غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
یورپ کے بعد امریکا بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں، خطرناک ہیٹ ویو وارننگ جاری
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چند افسران نے پورے ملک کا نظام خراب کر رکھا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب وہ ایف بی آر کو طلب کرتے ہیں تو انہیں نوٹس بھیج دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوئی کمپنی نہیں ہے اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ ایسے افسران سے جان چھڑائی جائے۔
اجلاس کے دوران ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا سمیت سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ بھی دی۔
چیئرمین کمیٹی نے انمول پنکی کو فراہم کی گئی غیر معمولی سیکیورٹی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انمول پنکی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس کے پیچھے بیس بیس پولیس موبائلیں موجود تھیں، جبکہ اتنا پروٹوکول تو ملک کے وزیراعظم کو بھی حاصل نہیں ہوتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اگلے سال انمول پنکی کو صدارتی ایوارڈ بھی دے دیا جائے گا۔