امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے شریک ہوں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ تکنیکی مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فالو اپ کے طور پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی نے 407 کھرب 41 ارب کے لازمی اخراجات کی منظوری دے دی
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل کو سہولت فراہم کرتا رہے گا اور اس کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ امور کو آگے بڑھانا ہے۔ پاکستان امن عمل میں اپنے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات کل متوقع ہیں اور بات چیت کے لیے صورتحال بہتر جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ بھی آئندہ دو روز میں سوئٹزرلینڈ جا سکتے ہیں، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم جلد سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو جائے گی اور ایران مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فریقین نے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے اور ایران جوابی اقدامات کا حق رکھتا ہے۔