شندور کے میدان میں گلگت بلتستان کی تاریخی فتح پوری قوم کی فتح, غلام عباس
شندور: نگران صوبائی وزیر اطلاعات، نشریات و انفارمیشن ٹیکنالوجی گلگت بلتستان غلام عباس نے دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں گلگت بلتستان پولو ٹیم کی شاندار اور تاریخی کامیابی پر پوری قوم، کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ اور شائقینِ کھیل کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
شندور پولو فیسٹیول کے فائنل میچ میں خود موجود رہتے ہوئے تاریخی مقابلہ دیکھنے کے بعد اپنے بیان میں غلام عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ٹیم نے بہترین کھیل، غیر معمولی مہارت اور مثالی ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 برس بعد شندور کی ٹرافی دوبارہ اپنے نام کی ہے، جو نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک ٹیم یا ضلع کی نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کی کامیابی ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے شبانہ روز محنت، لگن، عزم اور جذبے کے ساتھ میدان میں اتر کر ثابت کر دیا کہ گلگت بلتستان کے نوجوان کسی بھی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ میچ سے قبل بہت سے حلقے چترال کی ٹیم کو فیورٹ قرار دے رہے تھے اور اس کی جیت کی پیشگوئیاں کی جا رہی تھیں، تاہم گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں نے اپنے شاندار کھیل سے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے اور میدان میں اپنی برتری منوا کر سب کو حیران کر دیا۔
غلام عباس نے کہا کہ شندور صرف ایک کھیل کا میدان نہیں بلکہ گلگت بلتستان اور چترال کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور روایتی روابط کی علامت بھی ہے۔ ایسے مقابلے نہ صرف کھیلوں کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ مختلف علاقوں کے عوام کے درمیان محبت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
انہوں نے کامیاب ٹیم، کوچز، منیجمنٹ اور شائقین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان خطے میں پولو سمیت تمام روایتی اور جدید کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور معاونت جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ شندور کی یہ تاریخی فتح آنے والی نسلوں کے لیے ایک یادگار باب ثابت ہوگی۔ 15 سال بعد ٹرافی کی گلگت بلتستان واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ عزم، محنت اور قومی جذبے کے سامنے کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔ آج پورا گلگت بلتستان اپنی ٹیم کی اس شاندار کامیابی پر فخر محسوس کر رہا ہے اور ان شاء اللہ یہ ٹرافی مستقبل میں بھی ہمارے کھلاڑیوں کی محنت اور صلاحیتوں کی بدولت ہمارے پاس رہے گی۔