پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ناراض اراکینِ اسمبلی کی پشاور میں ہونے والی اہم بیٹھک تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی، جس میں 22 اراکینِ صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔
اجلاس میں شریک ایک رکن نے جنگ کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا اس گروپ سے کوئی تعلق نہیں، ہمیں جان بوجھ کر ان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ اجلاس میں صوبے کی سیاسی صورتحال، حکومتی کارکردگی، پارٹی معاملات اور اراکین کے تحفظات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
آئندہ مالی سال 20 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر
ذرائع کے مطابق اجلاس کے اختتام پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو باقاعدہ خط کے ذریعے صوبے میں گورننس کی خراب صورتحال، بدعنوانی کے الزامات، امن و امان کے مسائل اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک نہ چلانے جیسے معاملات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں شریک اراکین نے اسد قیصر کی سربراہی میں قائم چھ رکنی کمیٹی سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
شرکاء نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے معاملات اور تحفظات کے حوالے سے صرف بیرسٹر گوہر علی خان سے براہِ راست ملاقات اور بات چیت کریں گے اور کسی دوسری کمیٹی یا فورم کے ذریعے مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔
اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارٹی کے اندر موجود مسائل اور اختلافات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی متعدد سوالات اور تحفظات موجود ہیں جنہیں مرکزی قیادت کے سامنے رکھا جائے گا۔
دو روز بعد ناراض اراکین کا ایک اور اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں مزید اراکینِ اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔
ایک ناراض رکن نے جنگ کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا اس گروپ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اس اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ کے اراکین کو جان بوجھ کر علی امین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔