Gas Leakage Web ad 1

قومی اہداف کی اہمیت

رضوان عباسی، بیجنگ

0

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی محض وسائل، آبادی یا جغرافیائی محلِ وقوع سے نہیں ہوتی بلکہ واضح قومی اہداف، دور اندیش قیادت اور مسلسل محنت سے ممکن بنتی ہے۔ جو ممالک آنے والے عشروں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنی قومی ترجیحات کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھاتے ہیں، وہی عالمی ترقی کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں چین کی غیر معمولی ترقی بھی اسی اصول کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چین نے قومی ترقی کو مرحلہ وار اہداف سے جوڑا، ان اہداف کے حصول کے لیے ریاستی پالیسیوں، معاشی اصلاحات، سائنسی و تکنیکی پیش رفت اور عوامی شمولیت کو یکجا کیا، اور یوں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب رہا۔
آج جب چین اپنے دوسرے صد سالہ ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تو اس کا ترقیاتی سفر دنیا کے لیے اس امر کی ایک اہم مثال بن چکا ہے کہ طویل المدتی وژن اور منظم منصوبہ بندی کس طرح ایک قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ملک میں لیڈرشپ کا کردار وہی ہوتا ہے جو گھر میں والدین کا ہوا کرتا ہے۔ چینی لیڈرشپ نے اس ملک کے قیام کے بعد سے چینی قوم کو ایک درست سمت دی۔ ان کے اندر قومی سوچ پیدا کی، ملک و قوم کو اپنی ذات پر فوقیت دینے کا جذبہ پیدا کیا اور انھیں محنت کرنے کا عادی بنایا ۔ گزشتہ سات دہائیو ں سے یہ قوم ان تھک محنت کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ چین آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور بین الاقوامی تجارت کے حجم کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ چین کو دنیا کی پہلی صف میں کھڑا کرنے میں چینی قیادت کے وژن اور تزویراتی منصوبہ بندی کا اہم کردار ہے۔ چین آنے والے وقت کے اہداف طے کرتا ہے اور ان اہداف کو بر وقت یا وقت سے قبل پورا کر نے میں ساری توانائیاں لگا دیتا ہے۔ ان کے پہلے صد سالہ ہدف کے مطابق چین سے انتہائی غربت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اب اگلے دس برس کے دوران چین کو ایک جدید ملک بنانے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر نے پر کام کیا جائے گا، اور پھر اس صدی کے وسط تک چین کو ہمہ جہت طور پر ایک جدید، خوشحال، اور ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کیا جائے گا۔ سال دو ہزار پینتیس کے لئے چین کے ہمہ جہت ترقیاتی مقاصد میں یہ اہداف شامل ہیں کہ چین کی اقتصادی ، سائنسی اور تکنیکی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، اور فی کس جی ڈی پی ایک درمیانی سطح کے ترقی یافتہ ملک کے برابر لائی جائے گی۔ چین کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی بدولت دنیا کے سب سے زیادہ اختراعی ممالک کی صف میں شامل کیا جائے گا، ایک جدید معیشت کی تعمیر کے لئے زراعت اور صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ گورننس کے نظام ، تعلیم، ثقافت، کھیل ، صحت اور دیگر شعبوں میں بہتری لائے جائے گی۔ لوگوں کی بہتر اور خوشگوار زندگی اور فی کس ڈسپوزایبل آمدنی کو ایک بلند سطح پر لایا جائے گا۔ طویل مدتی سماجی استحکام حاصل کرنے کے لئے دیہی علاقوں میں عوام کے میعارِ زندگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ کاربن کے اخراج میں آہستہ آہستہ کمی لائی جائے گی، ماحول کو بہتر کیا جائے گا اور ملک کو مزید خوبصورت بنایا جائے گا۔ قومی سلامتی کے نظام کو جامع طور پر مضبوط کیا جائے گا اور قومی سلامتی کی صلاحیتیں پروان چڑھائی جائیں گی۔ ان تمام اہداف سے ایک بات تو واضع ہے کہ جن قوموں نے ترقی کی کو ئی منزل طے کرنی ہوتی ہے وہ ایک ایک دن کو قیمتی سمجھتی ہیں ۔ وہ آج ہی آنے والی نصف صدی کی منصونہ بندی کرتی ہیں ، اور آج سے ہی اس پر انتھک محنت شروع کرتی ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.