اسلام آباد میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا، کیونکہ موجودہ حالات میں فضائی حملوں کے بجائے بات چیت ہی مسائل کا مؤثر حل ہے۔
بجٹ 27-2026 میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف کا امکان
کایا کالاس نے بتایا کہ تزویراتی مذاکرات کے دوران مختلف اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مزید فروغ پائے گا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے تنازع نے دنیا کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کیا، جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کے تسلسل کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
کایا کالاس نے کہا کہ ۲۰۲۶ کے لیے بنیادی ہدف پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے، جبکہ یہ شراکت داری تجارت اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین علاقائی اور عالمی استحکام کے حوالے سے مشترکہ ترجیحات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان خطے کی ایک اہم قوت اور یورپی یونین کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی قیادت اور کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ قابلِ ستائش ہے، خصوصاً پاک بھارت کشیدگی اور امریکا۔ایران تنازع کے دوران دونوں فریق قریبی رابطے میں رہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کا تزویراتی وژن طویل المدتی شراکت داری کو نئی سمت دے سکتا ہے، جبکہ تزویراتی مذاکرات کا تسلسل دونوں فریقوں کے درمیان متحرک اور مستقبل پر مبنی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے حالیہ دور سے مثبت اور بامعنی نتائج برآمد ہوں گے اور دونوں جانب تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور مشترکہ مفادات کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ سات برس بعد ہو رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ تزویراتی مذاکرات کے دوران سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے امریکا۔ایران بحران کے دوران تعاون پر یورپی یونین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تزویراتی مذاکرات کا یہ آٹھواں دور سلامتی، علاقائی صورتحال، تجارت، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی روابط سمیت مختلف شعبوں پر مرکوز ہے۔
اس سے قبل کایا کالاس کا وزارت خارجہ میں استقبال کیا گیا۔ وہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران آصف علی زرداری، شہباز شریف اور عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔ علاوہ ازیں وہ مختلف تحقیقاتی اداروں اور جامعات کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور یورپی یونین تجارت، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رعایتی یا بلا محصول رسائی حاصل ہے۔