مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔
قربانی کا گوشت ضرورت مندوں، رشتے داروں اور دیگر افراد میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے اور خود بھی مختلف پکوانوں کی صورت میں اسے ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے۔
پاکستان میں سالانہ 4 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر سے مرجاتے ہیں: پرو وی سی ڈاؤ یونیورسٹی
تاہم عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت میں انسانی صحت کے لیے ضروری پروٹینز موجود ہوتے ہیں، اس لیے قربانی کا گوشت اعتدال کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
گوشت کے ٹکڑے کرتے وقت احتیاط
ماہرین کے مطابق گوشت کے ٹکڑے کرتے وقت پلاسٹک کے دستانے ضرور پہننے چاہئیں تاکہ اگر گوشت یا خون میں کسی قسم کا وائرس، جیسے کانگو وائرس، موجود ہو تو اس سے بچاؤ ممکن ہو سکے، تاہم یہ وائرس گوشت اچھی طرح پکانے سے ختم ہو جاتا ہے۔
زیادہ گوشت کھانے سے پرہیز
زیادہ گوشت کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس سے معدے میں تیزابیت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تیزابیت خاص طور پر ذیابیطس، بلڈ پریشر، جگر، دل اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لیے مزید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ مصالحے دار کھانوں کے ساتھ کولا مشروبات کا استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
چہل قدمی کی اہمیت
اگر گوشت دیکھ کر کھانے سے خود کو روکنا مشکل ہو تو کچھ دیر کے لیے تیز چہل قدمی ضرور کرنی چاہیے تاکہ معدہ بہتر طریقے سے کام کرے اور کھانا آسانی سے ہضم ہو سکے۔
کھانے کے اوقات کی پابندی
عید کے دنوں میں اکثر افراد کھانے کے اوقات کا خیال نہیں رکھتے، جبکہ روزمرہ کے معمول کے مطابق کھانے کے اوقات برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اس میں تبدیلی منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔
گوشت اچھی طرح پکانے کی ہدایت
قربانی کے گوشت کو اچھی طرح پکانا ضروری ہے کیونکہ نامکمل طور پر پکا ہوا گوشت انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح باربی کیو کرتے وقت گوشت کو حد سے زیادہ جلانے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے نقصان دہ کیمیکلز پیدا ہو سکتے ہیں۔
کھانوں کے درمیان وقفہ
دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان کم از کم 6 گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے تاکہ گوشت کو ہضم ہونے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
گوشت کے ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال
اگر قبض سے بچنا ہو تو گوشت کے ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضروری ہے جبکہ کھانوں کے ساتھ سلاد کو بھی لازمی حصہ بنانا چاہیے۔