ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کے اجرا کی سروس مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ ڈی جی پاسپورٹ کے مطابق پاسپورٹ ہیڈ کوارٹر میں پیدا ہونے والی فنی خرابی کے مسئلے کو کامیابی سے حل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد چار روز سے معطل رہنے والا پاسپورٹ اجرا کا عالمی آپریشن اب دوبارہ سے فعال ہو چکا ہے۔ اس سے قبل تکنیکی وجوہات کی بنا پر دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، تاہم اب تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔
چین کیساتھ لڑنے کے بجائے بہتر تعلقات رکھنا زیادہ سود مند ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس فنی خرابی کی وجہ سے خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک میں پاسپورٹ کی فراہمی کا عمل بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اب ان تمام علاقوں میں سسٹم دوبارہ کام کر رہا ہے اور عوام کی سہولت کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کے دورانیے میں بھی بہتری لائی گئی ہے، جس کے تحت نارمل پاسپورٹ کی فراہمی کا وقت 21 دن سے کم کر کے 14 دن کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں اور مقامی شہریوں کو پاسپورٹ کی جلد اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں واقع پاکستانی سفارتی مشنز میں بھی پاسپورٹ سروسز کی بحالی کی تصدیق کر دی گئی ہے، جہاں ابوظہبی میں پاکستانی سفارت خانے اور دبئی میں واقع پاکستان قونصل خانے نے دوبارہ سے پاسپورٹ جاری کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز میں بھی سسٹم مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے، جس سے وہاں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کی پریشانی ختم ہو گئی ہے۔ ان تمام مراکز پر اب پاسپورٹ سے متعلقہ درخواستوں پر معمول کے مطابق کام جاری ہے اور تکنیکی خرابی کے باعث پیدا ہونے والے بیک لاگ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔