پنجاب کے مختلف اضلاع میں 13 سہولت آن دی گو بازار بھی قائم کیے جائیں گے۔ مجموعی طور پر 27 نئے سہولت بازاروں میں 1300 نئے کاروبار شروع ہوں گے، جبکہ 600 سے زائد افراد کے لیے براہ راست روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ اور ملاقات کیسز پر سماعت، جیل حکام سے جواب طلب
نئے سہولت بازاروں کے قیام سے سالانہ 9 کروڑ سے زائد شہری مستفید ہوں گے۔ ان بازاروں میں اشیائے ضروریہ، سبزیاں اور پھل اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 40 فیصد اور ڈی سی ریٹ سے 18 فیصد کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔ ان منصوبوں کے ذریعے ساڑھے 8 لاکھ سے زائد گھرانوں کو مجموعی طور پر 5 ارب 30 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ان بازاروں کے قیام سے مقامی سپلائی چین اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ دکانداروں کی فروخت میں 24 فیصد اور منافع میں 23 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ سہولت بازاروں میں دکانداروں کو مفت بجلی، صفائی اور سکیورٹی جیسی سہولیات کی مد میں تقریباً 35 کروڑ روپے سالانہ کی بچت بھی ہوگی۔
ہر سہولت بازار کے مرکزی کنٹرول روم میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 5 کلومیٹر کے اندر 40 منٹ میں فری ہوم ڈلیوری سروس فراہم کی جائے گی، جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ہوگی۔
بھکر، میانوالی، پاکپتن، راجن پور، مظفر گڑھ، منڈی بہاؤالدین، راولپنڈی، اٹک اور جہلم کی تحصیلوں میں نئے سہولت بازار قائم کیے جائیں گے، جبکہ خانیوال، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولپور، بہاولنگر، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات اور سرگودھا بھی اس منصوبے میں شامل ہیں۔
لاہور، جہلم، بھکر، راولپنڈی، قصور اور فیصل آباد کی مختلف تحصیلوں میں سہولت آن دی گو بازار بھی قائم ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی کا عہد ہر صورت پورا کیا جائے گا، اور سہولت بازاروں کے ذریعے عوام کو واضح معاشی ریلیف ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بازاروں میں صاف ستھرے ماحول میں بہترین پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ پارکنگ، بیٹھنے کی جگہ اور بزرگ شہریوں کے لیے الگ کاؤنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔ سہولت بازاروں میں پینے کے صاف پانی، مسجد اور فیملی فرینڈلی ماحول کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔