امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی نئی ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم معاملات میں پیش رفت نہیں ہو رہی کیونکہ ایران ایسی شرائط پیش کر رہا ہے جن سے وہ متفق نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران سے متعلق موجودہ صورتحال پر مطمئن نہیں ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔
میں نے 100 فیصد دینےکی کوشش کی، پلان پر عمل کیا اور اللہ نے عزت سے نوازا: حنین شاہ
انہوں نے ایرانی قیادت کو کنفیوژڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے درمیان اتحاد کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت میں مختلف افراد متضاد باتیں کر رہے ہیں اور خود ایرانیوں کو بھی یہ واضح نہیں کہ قیادت کس کے پاس ہے، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ نئی ایرانی تجاویز میں ایسا کیا ہے جسے وہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ٹرمپ نے پاکستان کے لیے ایک بار پھر اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بہت احترام کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ادھر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول تک ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔