یہ اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، اور تمام شہریوں، عمارت مالکان اور ایونٹ منتظمین کے لیے ان ضوابط پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت پتنگ بازی صرف مضبوط اور محفوظ چھتوں پر کی جا سکے گی، جبکہ چھت کی چار دیواری کی کم از کم اونچائی ساڑھے 3 فٹ ہونا ضروری ہوگی۔ بچوں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کو مسلسل نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے، اور بچوں کو بغیر نگرانی چھت کے کناروں کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
8 کروڑ لیٹر ڈیزل کے ساتھ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کر گیا
چھتوں پر بھاگنے، کودنے، کناروں سے لٹکنے اور جارحانہ انداز میں پتنگ لوٹنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ چھتوں پر گنجائش سے زیادہ افراد جمع کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
پتنگ بازی کے دوران اونچی آواز میں موسیقی، ڈی جے سسٹمز اور شور پیدا کرنے والے آلات کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی، اور ہمسایوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی کسی بھی سرگرمی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ تمام مقامات پر فرسٹ ایڈ کٹ کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو ریسکیو 1122 سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ضوابط کے مطابق کسی بھی حادثے یا خلاف ورزی کی صورت میں عمارت مالکان اور ایونٹ منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ان ہدایات پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
مریم نواز شریف نے گزشتہ بسنت کے دوران شہریوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ 2027 میں بھی محفوظ بسنت کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا، اور حکومت کا مؤقف ہے کہ پتنگ بازی کے نام پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔