وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں جرائم کی شرح میں اضافے کا نوٹس لے لیا اور اس حوالے سے اجلاس طلب کیا۔
اجلاس کے دوران انہوں نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں جرائم پر قابو نہ پانے پر متعلقہ افسران کی سرزنش کی۔
مریم نواز نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو سی سی ڈی کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی شرح میں اضافہ شرمناک اور تشویشناک ہے۔
وزارت داخلہ و دفاع کی مشترکہ حکمت عملی، ایئرپورٹس پر سکیورٹی بہتر بنانے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ پنجاب کو سیف سٹی اور جرائم سے پاک بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب کسی قسم کی سستی کی گنجائش نہیں، پولیس کو ہر طرح کی مداخلت سے پاک کر دیا گیا ہے، اس لیے اب نتائج دینا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ماضی میں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جاتی تھیں، تاہم اب سیاسی مداخلت ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے گلبرگ میں گاڑی کی بیٹری چوری ہونے کی ویڈیو کو شرمناک قرار دیا اور گجرات میں بس روک کر بیگ چھیننے کے واقعے کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں سیف سٹی پروجیکٹ کے باوجود جرائم کا ہونا باعث تشویش ہے، جبکہ منشیات سے متعلق واقعات کے اعداد و شمار بھی انتہائی افسوسناک ہیں۔ انہوں نے اسپیڈو بس کے کنڈیکٹر کی جانب سے ایک بچی کو مارنے کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کا خوف ہو تو ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔