میڈیا میں ان دنوں 6G کو اپنانے کے حوالے سے ایک دلچسپ بحث جاری ہے۔ اگرچہ پاکستان نے 6 گیگا ہرٹز اسپیکٹرم بینڈ کو بغیر لائسنس استعمال کےلئے کھول کر خود کو ابتدائی اپنانے والے ممالک میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اس وقت اس کی اصل توجہ26۔ 2025 میں 5G کے نفاذ پر مرکوز ہے۔ 6G جو سیلولر ٹیکنالوجی کی چھٹی نسل ہے توقع ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اسے 2030 تک اپنالیں گے کیونکہ وہ اس شعبے میں بھرپور سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) ورچوئل رئیلٹی (VR) اور جدید صنعتی خودکاری جیسے شعبوں کو غیر معمولی سہولت فراہم کرے گی۔
اب بنیادی سوال یہ ہے: کیا پاکستان کو بھی ابھی سے اس کی تیاری شروع کر دینی چاہئے؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ 5G کے معاملے میں پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہاہے۔ مالدیپ نے 2019 میں، بھارت نے 2022 میں جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش نے 2025 میں 5G متعارف کرایا۔ پاکستان میں 5G اسپیکٹرم کی نیلامی مارچ 2026 میں ہوئی۔ اگرچہ کچھ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے بڑے شہروں میں 5G متعارف کرا رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم ابھی اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے مرحلے میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر صارفین اب بھی 3G استعمال کر رہے ہیں اور تقریباً 40 فیصد افراد کو 4G کی سہولت بھی میسر نہیں۔
ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایک بڑی کمپنی، جاز آئندہ تین برسوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ 16 بڑے شہری مراکز کو جوڑا جا سکے۔ اس نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا ہے اور 5G کو ایک ہزار سے زیادہ مقامات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
دنیا کی بڑی معیشتیں پہلے ہی 6G کے لیے تحقیق پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ اگلے تین سے چار برسوں میں اس کا عملی آغاز کیا جا سکے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان جو ابھی 5G کے نفاذ میں مصروف ہے اسے 6G کے لئے بھی تیاری شروع کردینی چاہئے؟
اس حوالے سے دو مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔ ایک نقطہ نظر کے مطابق چونکہ ہم ابھی 5G کے نفاذ کے بتدائی مرحلے میں ہیں اور ہمارے وسائل بھی دیگر ملکوں کے مقابلہ میں محدود وسائل ہیں ۔ان محدود وسائل کو 6G پر خرچ کرنا دانشمندی نہیں چونکہ 5G کا پھیلاو ابھی نہایت محدود ہے اس لئے ہمارا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورا نظام بدستور 4G پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ صرف 18 فیصد موبائل ٹاورز فائبر سے منسلک ہیں جبکہ عالمی اوسط 40 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی موثر اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی سہولت کا فقدان ہے جو ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔ اگرچہ امیر ممالک اس دوڑ میں آگے ہیں لیکن 6G کا مکمل تجارتی استعمال ابھی دور ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس وقت صرف 18 فیصد موبائل ٹاورز فائبر سے منسلک ہیں، جبکہ عالمی اوسط 40 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت اب بھی ناکافی ہے لہٰذا ہماری اولین ترجیح ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہونی چاہئے۔
مزید یہ کہ عالمی حالات بھی سازگار نہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے اور پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ ملک میں کفایت شعاری کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جنگ کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوا تھا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم پہلے 5G کو مکمل طور پر موثر بنائیں، انفراسٹرکچر کو بہتر کریں اور ڈیجیٹل خلا کو کم کریں۔
دوسری رائے یہ ہے کہ 6G کےلئے تیاری شروع نہ کی تو وہ ایک بار پھر دوسرے ملکوں سے پیچھے رہ جائے گا۔ امریکہ، چین، فن لینڈ اور جاپان جیسے ممالک پہلے ہی اس سمت میں تیزی سے کام کر رہے ہیں چونکہ یہ ٹیکنالوجی اگلے چند برسوں میں حقیقت بن سکتی ہے، اس لئے پاکستان کو ردِعمل دینے کے بجائے پیشگی حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔ اگر ہم ابھی سے تیاری کریں تو اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لئے بہترین راستہ کیا ہے؟ کیا وہ صرف 5G پر توجہ دے یا 6G کی منصوبہ بندی بھی ساتھ ساتھ کرے؟
دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان 5G کے موثر نفاذ کو یقینی بنائے اور اسے مختلف شعبوں میں کامیابی سے استعمال کرے۔ ساتھ ہی محدود پیمانے پر 6G کے لئے منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور تربیت کا آغاز کرے۔ سینئر محققین کو ان ممالک میں بھیجا جائے جہاں اس ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے تاکہ وہ تجربہ حاصل کر سکیں۔
اس مقصد کے لئے حکومت، تحقیقی اداروں، جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط اشتراک ناگزیر ہے ؛یعنی ایک موثر”ٹیکنالوجی مثلث“ کی تشکیل…. اس وقت ان اداروں کے درمیان روابط کمزور ہیں جس کے باعث تحقیق اکثر عملی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ جامعات زیادہ تر بنیادی تحقیق تک محدود ہیں جبکہ ہمیں اطلاقی تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔
آئیے 6G کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں کیونکہ یہ وہ ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے جو مستقبل میں ہماری معیشت اور معاشرے کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل دے۔
*مصنف پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد میں ممتاز مشیر ہیں۔ اس تحریر میں پیش کردہ خیالات ان کے ذاتی ہیں اور ادارے کی نمائندگی نہیں کرتے*