اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ قرارداد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خارجہ پالیسی وژن کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں امن کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ عمران خان کے دور حکومت میں دوحہ عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا اور کرتار پور راہداری کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا گیا، جبکہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کو پائیدار امن کے حصول کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی اس قرارداد میں امن اور سفارت کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اسلام آباد امن مکالمے کو علاقائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا گیا۔
متن کے مطابق تنازعات غربت اور انسانی مسائل میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سیاسی مکالمے کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
ایوان نے امن مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔